ہمارے گھر کا تقدس پامال کیا گیا! اعجاز جکھرانی کا احتجاج، فریال تالپور نے آئی جی سے رپورٹ طلب کرلی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اعجاز جکھرانی نے کراچی میں اپنے والد مرحوم بابل خان جکھرانی کی رہائش گاہ پر پولیس کارروائی کے خلاف سخت ردعمل دیتے ہوئے واقعے کی اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما فریال تالپور نے بھی چھاپے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

اعجاز جکھرانی نے رات گئے جاری کیے گئے ویڈیو بیان میں کہا کہ ان کے والد کی رہائش گاہ پر پولیس کارروائی سے چادر اور چار دیواری کے تقدس کی خلاف ورزی ہوئی جبکہ گھر میں خواتین بھی موجود تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ والد کا گھر ان کا بھی گھر ہے اور وہاں خواتین کی موجودگی کے باعث اس معاملے کو انتہائی حساس انداز میں دیکھا جانا چاہیے۔

اپنے بیان میں اعجاز جکھرانی نے واضح کیا کہ وہ اپنے چھوٹے سوتیلے بھائی آزاد جکھرانی سے پہلے ہی لاتعلقی کا اظہار کرچکے ہیں۔ ان کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس اور دیگر مصروفیات کے باعث وہ فوری طور پر متعلقہ حکام سے رابطہ نہیں کرسکے تاہم رات گئے فریال تالپور، صوبائی وزیر داخلہ اور آئی جی سندھ سے رابطہ کرکے پولیس کارروائی پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔

اعجاز جکھرانی نے مطالبہ کیا کہ چھاپے کے ذمہ دار پولیس افسران اور اہلکاروں کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہییں اور اگر کسی اہلکار سے قانون یا ضابطے کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کا احتساب کیا جائے۔

فریال تالپور کا نوٹس، آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب

دوسری جانب فریال تالپور نے مرحوم رکن قومی اسمبلی بابل خان جکھرانی کی رہائش گاہ پر پولیس چھاپے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی مکمل تحقیقات کی ہدایت کردی ہے۔ انہوں نے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے زور دیا کہ کارروائی کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر حقائق سامنے لائے جائیں۔

فریال تالپور کا کہنا تھا کہ کسی شہری کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کی جاسکتی اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ معاملے کی تحقیقات شفاف اور غیر جانب دارانہ انداز میں کی جائیں اور ذاتی رنجشوں کو سیاسی معاملات میں شامل کرنے سے گریز کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام معاملات قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل ہونے چاہییں تاکہ کسی بھی فریق کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔

Related Posts