کرتارپور: مذہبی سفارتکاری سے قانونی ضمانت تک

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان کا سکھ مذہب اور اس کے تاریخی ورثے سے تعلق محض جغرافیائی قربت تک محدود نہیں، بلکہ اس کی بنیاد مشترکہ تاریخ، روحانی وابستگی اور برصغیر کی تہذیبی میراث میں پیوست ہے۔ گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور، جہاں سکھ مذہب کے بانی گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری 18 برس گزارے، سکھ برادری کے لیے غیر معمولی مذہبی و تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور پاکستانیوں کی بھی محبت و عقیدت کا مظہر ہے۔ پاکستان کے ضلع نارووال میں واقع یہ مقام پاکستان اور بھارت سمیت دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے رغبت اور عقیدت کا مرکز ہے۔ نومبر 2019ء میں کرتارپور راہداری کا افتتاح پاکستان اور بھارت کے درمیان مذہبی رسائی کے حوالے سے ایک اہم سفارتی پیش رفت تھی، تاہم بعد کے واقعات نے واضح کیا کہ عملی سہولت اور دوطرفہ وبین الاقوامی قانونی ضمانت دو مختلف چیزیں ہیں۔ اسی فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے اب وقت آ گیا ہے کہ کرتارپور کے تحفظ اور یاتریوں کی رسائی کے لیے ایک ایسا مربوط قانونی لائحہ عمل زیرِ غور لایا جائے جو سیاسی کشیدگی سے بالاتر ہو اور مذہبی ورثے کے تحفظ کو طویل مدتی بنیاد فراہم کرے۔

اس سے قبل کہ ہم آج سے تقریباً ایک صدی پہلے کیے گئے معاہدۂ لیٹران کی بات کریں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہولی سی سے مراد پوپ اور ان کے زیرِ قیادت کیتھولک چرچ کا مرکزی مذہبی و انتظامی ادارہ ہے، جو عالمی سطح پر چرچ کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔ دوسری جانب، ویٹیکن سٹی کافی حد تک ایک خودمختار ریاست کی سی حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں کا گہرا تعلق ہے، تاہم ان کی قانونی حیثیت الگ ہے۔

اس مقصد کے لیے دو بین الاقوامی مثالیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں، جس میں 1929ء کا معاہدۂ لیٹران، جس کے ذریعے اٹلی اور ہولی سی کے درمیان دیرینہ تنازع حل کیا گیا، اور 2015ء کا پرتگال اور اسماعیلی امامت کے درمیان معاہدہ شامل ہے جس نے ایک عالمی مذہبی ادارے کی قانونی حیثیت اور ادارہ جاتی آزادی کے لیے باقاعدہ ضابطہ فراہم کیا۔ یہ دونوں مثالیں اپنی ساخت میں کرتارپور سے مختلف ضرور ہیں، لیکن ان سے یہ اصول اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ریاستی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے کرتارپور جیسے مقدس مقام اور اس سے وابستہ سرگرمیوں کے لیے خصوصی قانونی تحفظ اور دیرپا و قابلِ اعتماد انتظامات وضع کیے جائیں۔

تاریخی اعتبار سے 11 فروری 1929ء کو اٹلی اور ہولی سی کے درمیان طے پانے والے معاہدۂ لیٹران نے ویٹیکن سٹی کو کسی حد تک ایک خودمختار ریاست جیسا تسلیم کرنے کی بنیاد فراہم کی جبکہ اس معاہدے کی اہمیت صرف ویٹیکن سٹی کے قیام تک محدود نہیں۔ اس کی دفعہ 15 اور متعلقہ دفعات کے تحت روم میں واقع ہولی سی کی بعض مخصوص املاک کو خصوصی قانونی تحفظ دیا گیا، جبکہ دفعہ 16 میں درج املاک کو اطالوی ریاست کے عمومی انتظامی اور قانونی نظام کے اندر رہتے ہوئے مخصوص مراعات حاصل ہوئیں۔ ان دفعات کا بنیادی مقصد ان املاک کو ہولی سی کے سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لیے محفوظ اور مؤثر طور پر قابلِ استعمال بنانا تھا۔

یہاں ایک اہم قانونی فرق سمجھنا ضروری ہے: ویٹیکن سٹی کی خودمختاری اور اٹلی میں واقع ہولی سی کی مخصوص املاک کو حاصل خصوصی حیثیت ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ ان املاک کو ویٹیکن سٹی کی طرح الگ خودمختار ریاست قرار نہیں دیا گیا، اور نہ ہی ان کے لیے تمام اطالوی قوانین سے عمومی استثنا قائم کیا گیا۔ معاہدے نے مخصوص مقامات اور سرکاری سرگرمیوں کے لیے متعین تحفظات فراہم کیے۔ اسی طرح، معاہدے کی دفعہ 12 ہولی سی اور اطالوی ریاست کے درمیان سفارتی رابطوں اور بشپ صاحبان کی آزادانہ آمدورفت سے متعلق انتظامات کے تناظر میں اہم ہے۔ 1984ء میں نظرثانی شدہ معاہدے نے کیتھولک مذہب کی اٹلی کے واحد سرکاری مذہب کی حیثیت ختم کرنے سمیت تعلقات کے قانونی ڈھانچے میں تبدیلیاں کیں، تاہم ویٹیکن سٹی کی خودمختاری برقرار رہی۔

کرتارپور کے لیے اس مثال کا اصل سبق صرف یہ نہیں کہ پاکستان کو گوردوارے کو ویٹیکن جیسی ریاست ہی بنانا چاہیے، بلکہ یہ ہے کہ کسی مقدس مقام کی قانونی حیثیت، انتظامی آزادی، جائیداد کے تحفظ اور مذہبی رسائی کے لیے عام انتظامی احکامات سے زیادہ مضبوط اور واضح قانونی ضمانتیں وضع کی جا سکتی ہیں۔ پاکستان اپنی علاقائی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے گوردوارے کے احاطے، مذہبی سرگرمیوں اور یاتریوں کی آمدورفت کے لیے ایک مخصوص قانونی نظام تشکیل دے سکتا ہے۔ اس طرح مذہبی احترام اور ریاستی اختیار کو ایک دوسرے سے مماثلت فراہم کرکے باہم مربوط کیا جا سکتا ہے۔

پرتگال اور اسماعیلی امامت کے درمیان 3 جون 2015ء کو دستخط کیے گئے معاہدے نے مذہبی اداروں کے بین الاقوامی کردار اور ان کے ادارہ جاتی فرائض کے لیے خصوصی قانونی تحفظ کی ایک جدید مثال فراہم کی۔ پرتگال کی پارلیمان نے اکتوبر 2015ء میں اس معاہدے کی منظوری دی۔ اس کی دفعہ 2 کے تحت پرتگال نے اسماعیلی امامت کی قانونی شخصیت اور بین الاقوامی تعلقات میں کردار ادا کرنے کی صلاحیت کو تسلیم کیا، جبکہ معاہدے میں اس کے مرکز، اثاثوں، امام، اعلیٰ عہدیداروں اور عملے کے سرکاری فرائض سے متعلق مراعات اور استثنا بھی متعین کیے گئے۔

معاہدے کی ایک نمایاں خصوصیت اس کی مدت سے متعلق دفعہ 19 ہے۔ اس کے تحت معاہدہ غیر معینہ مدت کے لیے نافذ رہنے کا انتظام رکھتا ہے، جبکہ ابتدائی پچیس برس گزرنے کے بعد کسی فریق کو چار سالہ تحریری پیشگی نوٹس کے ذریعے اسے ختم کرنے کا اختیار حاصل ہے، الاّ یہ کہ فریقین تحریری طور پر اس مدت میں تبدیلی پر متفق ہو جائیں۔ لہٰذا اسے ایسا معاہدہ کہنا زیادہ درست ہوگا جس کی مدت غیر معینہ ہے مگر جس میں مخصوص شرائط کے تحت خاتمے کا طریقۂ کار بھی موجود ہے۔

اس مثال سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ جدید ریاستیں اپنے آئینی اور قانونی نظام کے اندر رہتے ہوئے کسی عالمی مذہبی ادارے کے لیے اس کی مخصوص ضروریات کے مطابق قانونی و سفارتی تحفظ، ادارہ جاتی تسلسل اور سرکاری فرائض کی آزادی کو تسلیم کر سکتی ہیں۔ تاہم، پرتگال اور اسماعیلی امامت کا معاہدہ کسی گوردوارے کو خودکار طور پر وہی مراعات دینے کی نظیر غالباً نہیں بنتا؛ لیکن اس سے نتائج اخذ کرتے ہوئے ایک بہتر انتظام و انصرام کا فریم ورک بنایا جاسکتا ہے۔

آج سے تقریباً 7 سال قبل 24 اکتوبر 2019ء کو پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری کے ذریعے سکھ یاتریوں کی آمدورفت کا معاہدہ طے پایا۔ اکتوبر 2024ء میں اس معاہدے کی مدت میں مزید 5 برس کی توسیع کی گئی، جس سے اس کا طے شدہ دورانیہ اکتوبر 2029ء تک پہنچ گیا۔ اس انتظام کے تحت روزانہ پانچ ہزار تک یاتریوں کو مخصوص شرائط کے تحت بغیر ویزا گوردوارہ دربار صاحب آنے کی سہولت دی گئی، جبکہ ہر یاتری کے لیے بیس امریکی ڈالر سروس چارج مقرر ہے۔ خصوصی مذہبی مواقع پر اضافی گنجائش بھی معاہدے کی شرائط اور انتظامی صلاحیت کے مطابق فراہم کی جا سکتی ہے۔

یہ انتظام اپنی نوعیت میں ایک اہم سفارتی اور مذہبی سہولت ہے، لیکن اس کی مدت اور شرائط واضح کرتی ہیں کہ اسے غیر معینہ مدت کے لیے مستقل قانونی تحفظ کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔ مئی 2025ء میں پہلگام حملے اور اس کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بھارتی حکام نے کرتارپور راہداری کی خدمات معطل کر دیں۔ بھارتی وزارتِ داخلہ کے سرکاری پورٹل پر بھی راہداری کی خدمات معطل ہونے کی اطلاع درج کی گئی۔ اس واقعے نے دکھایا کہ مذہبی یاترا کے لیے موجود سہولت وسیع تر سلامتی اور سفارتی حالات سے متاثر ہو سکتی ہے۔

اس صورتِ حال سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مناسب ہوگا کہ موجودہ انتظام کو ختم کرنے کے بجائے اس کے ساتھ مزید مضبوط قانونی ضمانتوں کا امکان تلاش کیا جائے۔ مقصد کسی ریاست کے سلامتی سے متعلق جائز اختیارات کو نظرانداز کرنا نہیں، بلکہ یہ طے کرنا ہونا چاہیے کہ مذہبی رسائی کے معاملات میں فیصلہ سازی کے واضح اصول، پیشگی اطلاع، ہنگامی صورتِ حال میں مذہبی معاملات کو بالاتر رکھتے ہوئے قانون سازی کی جائے اور ایک ایسا معاہدہ تشکیل دیا جائے جو سیاسی اختلافا ت کی زد میں نہ آسکے اور مذہبی ورثے کے تحفظ اور یاتریوں کے مفادات کو مستقل تحفظ فراہم کرسکے ۔

پاکستان کو چاہیے کہ وہ سکھ برادری کے ساتھ معاملات کو زیر بحث لا کر ان کے ذریعے بھارت کے ساتھ موجودہ کرتارپور راہداری معاہدے کو مزید مؤثر بنانے اور گوردوارہ دربار صاحب کی خصوصی قانونی حیثیت کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے باضابطہ سفارتی مشاورت شروع کرے۔ اس عمل میں سکھ برادری کے نمائندہ اداروں اور سکھوں کے عالمی اداروں کو مناسب مرحلے پر شامل کیا جانا چاہیے۔ اس مشاورت کا مقصد کسی غیر ملکی خودمختار علاقے کا قیام نہیں، بلکہ پاکستان کی خودمختاری اور ملکی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک ایسا مخصوص قانونی بندوبست تیار کرنا ہونا چاہیے جو کرتار پور جیسے اعلیٰ مقدس مقام کے تحفظ، مذہبی انتظام اور مقامی و بین الاقوامی سکھ برادری کی حقیقی شمولیت ، دونوں ممالک کی رضامندی اور طے شدہ قابلِ نفاذ ضمانتیں فراہم کرے۔

ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ قانونی بندوبست کی تیاری کیلئے وزارتِ خارجہ، وزارتِ مذہبی امور، وزارتِ قانون و انصاف اور وزارتِ داخلہ پر مشتمل ایک بین الوزارتی کمیٹی تشکیل دی جائے، جو موجودہ معاہدے، بین الاقوامی نظائر، آئینی تقاضوں اور مجوزہ قانونی تحفظات کا تفصیلی جائزہ لے۔ کمیٹی سکھ نمائندہ اداروں سے مشاورت کے بعد بھارت کے ساتھ ابتدائی سفارتی مذاکرات کے لیے ایک جامع مسودہ تیار کرے۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 20 میں مذہبی آزادی اور مذہبی اداروں کے انتظام کا حق، جبکہ آرٹیکل 25 میں شہریوں کی مساوات اور قانون کے مساوی تحفظ کا اصول درج ہے؛ مجوزہ بندوبست کی قانونی تشکیل میں ان دفعات اور متعلقہ قوانین کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

کرتارپور راہداری کے لیے ایسا قانونی انتظام پاکستان کو محض ایک تاریخی مذہبی مقام کا میزبان نہیں، بلکہ مذہبی ورثے کے تحفظ اور بین المذاہب روابط کے فروغ میں ایک ذمہ دار شراکت دار کے طور پر نمایاں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جوپاکستان کے آئین اور متعلقہ فریقین کے باہمی تعلقات کے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے ۔ اگر ان اصولوں کو سامنے رکھ کر پیش رفت کی جائے تو کرتارپور کے تقدس، یاتریوں کی سہولت اور علاقائی اعتماد سازی کے لیے ایک دیرپا اور قابلِ عمل راستہ ہموار کیا جا سکتا ہے۔

Related Posts