صوبائی دارالحکومت کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے دلخراش واقعے کے بعد پولیس اور انتظامیہ نے سخت ایکشن لے لیا ہے۔ سانحے میں ایک معلمہ اور 30 بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 40 سے زائد زخمی تاحال ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن میں سے چند کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
اسکول مالک کی گرفتاری اور پولیس کا موقف
کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) پشاور میاں سعید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ حادثے کے بعد نجی اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمارت انتہائی غیر محفوظ اور کمزور بنیادوں پر تعمیر کی گئی تھی جبکہ تنگ گلی میں واقع اس عمارت میں معصوم بچوں کو بٹھانا صریحاً مجرمانہ غفلت ہے۔
سی سی پی او نے عزم ظاہر کیا کہ اس المناک سانحے میں ملوث تمام ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے گا اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزم یہ اسکول ایک ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیرِ انتظام چلا رہا تھا۔
اسکول مالک کا اپنا موقف
گرفتار کیے جانے والے اسکول کے مالک خان محمد نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ عمارت نئی تھی اور اسے تقریباً ڈیڑھ سال قبل تعمیر کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تعمیراتی کام کے دوران معیار کا خیال رکھا گیا تھا۔
خان محمد کے مطابق حادثے کے وقت منہدم ہونے والی چھت کے نیچے موجود کلاس روم میں 30 طلبہ موجود تھے جبکہ مجموعی طور پر اس ادارے میں 350 بچے زیرِ تعلیم تھے جنہیں پڑھانے کے لیے 11 مرد اور 16 خواتین اساتذہ فرائض انجام دے رہے تھے۔
واضح رہے کہ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد اب تحقیقاتی کمیٹی نے عمارت کے گرنے کے اصل اسباب کا سراغ لگانا شروع کر دیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے ہولناک حادثات سے بچا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








