عالمی منڈی میں جمعرات 15 اکتوبر 2026 کو خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جہاں برینٹ اور امریکی خام تیل دونوں کی قیمتیں ایک ڈالر فی بیرل سے زیادہ گر گئیں جبکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کے نتیجے میں تیل کی ترسیل کو لاحق خطرات اور امریکی پابندیوں میں ممکنہ نرمی سے متعلق پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
عالمی تجارتی سرگرمیوں کے ابتدائی مرحلے میں برینٹ خام تیل کے سودے 1.39 ڈالر یعنی 1.31 فیصد کمی کے بعد 104.67 ڈالر فی بیرل پر آگئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 1.02 ڈالر یعنی 1.07 فیصد گھٹ کر 94.07 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
ماہرین کی توجہ ایک جانب خلیج میں تیل کی ترسیل کو درپیش خطرات پر مرکوز ہے تو دوسری جانب روس اور مشرق وسطیٰ سے تیل کی پیداوار اور برآمدات میں اضافے نے قیمتوں کو مزید بڑھنے سے روکنے میں کردار ادا کیا ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے پابندیوں میں ممکنہ نرمی کے اقدامات بھی عالمی سپلائی اور قیمتوں پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق ستمبر کے دوران روس کی خام تیل کی پیداوار میں یومیہ 65 ہزار بیرل اضافہ ہوا جس کے بعد پیداوار 84 لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ تک پہنچ گئی تاہم سالانہ موازنے میں روس کی پیداوار اب بھی یومیہ 8 لاکھ 70 ہزار بیرل کم ہے۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں خلیجی ممالک سے خام تیل کی برآمدات میں بھی یومیہ 44 لاکھ بیرل کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً 75 فیصد تک پہنچ گئیں۔
دوسری جانب سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو خلیجی خطے سے تیل کی برآمدات بڑھا کر 6 کروڑ بیرل تک لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تیل کی رسد میں مزید اضافے کی صورت میں عالمی منڈی میں قیمتوں کے رجحان پر اثر پڑ سکتا ہے تاہم مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی صورت حال اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق خدشات بدستور اہم عوامل رہیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








