بوگی نمبر 9 کے نٹ بولٹ ٹھیک نہیں تھے؟ رحمان بابا ایکسپریس حادثے کی وجوہات سامنے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

ملتان میں شیر شاہ پل کے قریب کراچی سے پشاور جانے والی مسافر ٹرین رحمان بابا ایکسپریس کو ایک دلخراش حادثہ پیش آیا ہے جہاں ٹرین کی تمام بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں جبکہ متعدد کوچز الٹ گئیں۔ المناک حادثے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 6 ہو گئی ہے جبکہ 30 سے زائد مسافر زخمی ہوئے ہیں۔

اسپتال انتظامیہ اور امدادی کارروائیاں

نشتر اسپتال کے ترجمان کے مطابق، حادثے کے بعد اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرکے اضافی طبی عملہ طلب کر لیا گیا ہے۔ اس وقت 21 زخمی مسافر زیرِ علاج ہیں جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ ایک زخمی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

ادھر کمشنر ملتان کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد سے لاپتا ہونے والی ڈیڑھ سالہ بچی کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ متاثرہ خاندان کے مطابق حادثے کے وقت بچی اپنی والدہ کے ساتھ برتھ پر موجود تھی۔

حادثے کا پس منظر اور مسافروں کے بیانات

ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ صبح تقریباً سوا پانچ بجے پیش آیا جس کے فوراً بعد ریسکیو اور امدادی اداروں نے موقع پر پہنچ کر آپریشن کا آغاز کیا۔ حادثے کے مناظر نے دل دہلا دیے جہاں مسافر اپنا سامان اٹھائے پٹڑیوں کے کنارے بے بسی کی حالت میں بیٹھے دکھائی دیے۔

حادثے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاہم بعض ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ٹرین کی رفتار تیز ہو سکتی ہے۔

ایک مسافر نے انکشاف کیا ہے کہ روہڑی کے قریب اسی ٹرین کی بوگی نمبر 9 کے نٹ بولٹ ٹھیک کیے گئے تھے تاہم حکام کی جانب سے اس بیان کی تاحال آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ اس کا حادثے سے کوئی تعلق ہے۔

حکومتی ردعمل اور تحقیقاتی احکامات

وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ جاں بحق اور زخمی ہونے والے مسافروں کو ریلوے انشورنس پالیسی کے اصولوں کے تحت بھرپور معاوضہ دیا جائے گا۔

وفاقی وزیرِ ریلوے نے فوری طور پر جائے وقوعہ کی طرف روانگی اختیار کر لی ہے جہاں وہ خود امدادی کارروائیوں اور صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ اس کے علاوہ، فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلویز کو حادثے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ ریلوے انتظامیہ کے مطابق متبادل روٹ یعنی بذریعہ لودھراں اور جہانیاں ٹرین آپریشن کو مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ٹرین حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کو بہترین اور فوری طبی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے۔

Related Posts