پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی مداخلت کے باعث خیبرپختونخوا حکومت کی عمل داری کمزور ہوچکی ہے اور صوبے میں عملاً گورنر راج جیسی صورت حال ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشت گردی کا حل گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ نہیں، بلکہ ایسے اقدامات بحران کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے پر تمام فریق متفق ہیں تاہم حکمت عملی پر اختلاف پایا جاتا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے پشاور میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو
وفاقی مداخلت نے صوبائی حکومت کی رٹ کمزور کر دی – حقیقت یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت عملاً گورنر راج ہے، صرف اعلان باقی ہے۔
دہشت گردی کا حل گورنر راج یا ایمرجنسی نہیں، اس سے بحران مزید بڑھے گا- ایمرجنسی صوبے اور وفاق دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگی- دہشت گردی کے خاتمے پر اتفاق، اختلاف صرف طریقۂ کار پر ہے-
عمران خان سے ایک سال سے بند ملاقاتیں فوری ختم کریں اس سے بہتری آئیگی ۔
ہمارے 3 وزرا سمیت 9 ایم پی ایز اور 8 ایم این ایز کو اٹھایا گیا ہے۔ خان صاحب کی بہنیں اور کزن جیل میں ہیں – یہ تشویشناک ہے-
ملکی قیادت ہٹ دھرمی چھوڑے، سیاسی بصیرت دکھائے— Barrister Gohar Khan (@BarristerGohar) October 10, 2026
پی ٹی آئی چیئرمین نے عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کے 9 ارکان صوبائی اسمبلی، جن میں 3 وزرا بھی شامل ہیں، اور 8 ارکان قومی اسمبلی کو بھی اٹھایا گیا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ ضد اور ہٹ دھرمی ترک کرکے باہمی مشاورت سے مسائل حل کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خاتمے اور سیاسی بحران پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ اقدامات اور موثر حکمت عملی ضروری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








