ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے عام استعمال کی متعدد اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق 8 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریے میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 0.57 فیصد اضافہ ہوا۔
ادارہ شماریات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق آٹے کی قیمت میں 5.69 فیصد، مرغی کے گوشت میں 4.93 فیصد، دال چنا میں 3.99 فیصد جبکہ پیٹرول اور ٹماٹر کی قیمتوں میں 2.40 فیصد فی کس اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح دال مسور 1.29 فیصد، تیار چائے 1.08 فیصد، پکی ہوئی دال 0.98 فیصد، دال ماش 0.91 فیصد اور ایل پی جی 0.57 فیصد مہنگی ہوئی۔
دوسری جانب بعض اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھنے میں آئی۔ رپورٹ کے مطابق کیلے 2.81 فیصد، ڈیزل 1.37 فیصد، آلو 0.89 فیصد، چینی 0.37 فیصد، گڑ 0.19 فیصد اور دال مونگ 0.03 فیصد سستی ہوئی۔
51 اشیاء میں سے 20 کی قیمتیں بڑھ گئیں
ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریے میں شامل 51 اشیاء میں سے 20 کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 6 اشیاء سستی ہوئیں جبکہ 25 کی قیمتیں برقرار رہیں۔
سالانہ بنیادوں پر مہنگائی میں 11.97 فیصد اضافہ
سالانہ موازنے میں حساس قیمتوں کے اشاریے کے تحت مہنگائی میں 11.97 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس دوران پیاز کی قیمت میں 100.24 فیصد، ایل پی جی میں 68.55 فیصد، بجلی کے پہلے سہ ماہی نرخوں میں 58.59 فیصد، پیٹرول میں 47.52 فیصد اور ڈیزل میں 42.52 فیصد اضافہ ہوا۔
اسی طرح آٹا 32.60 فیصد، مرچ پاؤڈر 15.55 فیصد، مٹن 15.02 فیصد، گائے کا گوشت 12.60 فیصد اور مرغی کا گوشت 9.44 فیصد مہنگا ہوا۔ سادہ ڈبل روٹی کی قیمت میں 8.99 فیصد جبکہ دہی میں 8.08 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سالانہ بنیادوں پر آلو کی قیمت میں 39.51 فیصد، ٹماٹر میں 37.07 فیصد، چینی میں 22.44 فیصد اور انڈوں میں 18.88 فیصد کمی ہوئی۔ نمک پاؤڈر 14.81 فیصد، دال مسور 9.79 فیصد، گڑ 8.59 فیصد اور دال مونگ 8.37 فیصد سستی ہوئی۔
کم آمدن والے گھرانوں پر بھی مہنگائی کا دباؤ
آمدنی کے مختلف طبقات کے اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ 17 ہزار 732 روپے تک کمانے والے گھرانوں کے لیے حساس قیمتوں کا اشاریہ 0.52 فیصد بڑھا جبکہ 17 ہزار 733 سے 22 ہزار 888 روپے ماہانہ آمدن والے طبقے میں 0.54 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح 22 ہزار 889 سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ آمدن والے گھرانوں کے اشاریے میں 0.53 فیصد جبکہ 29 ہزار 518 سے 44 ہزار 175 روپے آمدن والے طبقے میں 0.57 فیصد اضافہ ہوا۔
ماہانہ 44 ہزار 175 روپے یا اس سے زیادہ آمدن رکھنے والے گھرانوں کے لیے بھی اشاریہ 0.60 فیصد بڑھ گیا جو تمام آمدنی کے گروپوں میں سب سے زیادہ اضافہ تھا۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی حساس قیمتوں کا اشاریہ 370.40 پوائنٹس سے بڑھ کر 372.58 پوائنٹس ہوگیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








