عمران خان کا دوست نما دشمن کون؟ مذاکرات کس نے ناکام کروائے؟ اہم انکشاف منظر عام پر

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

وفاقی حکومت اور اپوزیشن بالخصوص پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی نا کامی کے پس پردہ اصل حقائق اور اندرونی کہانی منظرِ عام پر آ گئی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سیاسی ڈیڈ لاک توڑنے کی تمام کوششیں محمود خان اچکزئی کی مبینہ ہٹ دھرمی اور سخت موقف کی نذر ہو گئیں۔

ذرائع کے مطابق مذاکراتی عمل کے دوران محمود خان اچکزئی پوری اپوزیشن کمیٹی پر حاوی دکھائی دئیے۔ وہ ہر معاملے کو بانی پی ٹی آئی سے بالمشافہ ملاقات اور ان کی رہائی کے نکتے سے جوڑتے رہے۔ اگرچہ ایک مرحلے پر حکومتی وفد بیرسٹر گوہر کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروانے پر آمادہ ہو گیا تھا لیکن دیگرعوامل اور شرائط نے معاملے کو الجھا دیا۔

مذاکرات کی کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ لانگ مارچ موخر کرنے سے انکار اور انسدادِ دہشت گردی کے قومی نکتے پر معاہدہ نہ ہونا بنی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے اندرونی اراکین پر مبینہ بیرونی دباؤ بھی اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ رہا۔ اس کے برعکس حکومتی کمیٹی بظاہر مکمل بااختیار تھی اور معاملے کو سلجھانے کے لیے بارہا لچک کا مظاہرہ کرتی رہی تاہم محمود خان اچکزئی اور سہیل آفریدی کے سخت اور غیر لچکدار مطالبات کی وجہ سے مذاکرات پٹڑی سے اتر گئے۔

رپورٹ کے مطابق مذاکرات کی ناکامی میں اپوزیشن قیادت اور کے پی حکومت کے درمیان پائے جانے والے اندرونی اختلافات کا بھی اہم کردار رہا۔ جہاں اپوزیشن کے کئی ارکان ریاستی پالیسیوں کے ساتھ آہنگ ہو کر چلنے کے خواہاں تھے، وہیں خیبرپختونخوا حکومت نے مبینہ طور پر دہشت گردی سے متاثرہ اضلاع میں وفاقی سطح پر تعاون یا مدد لینے سے بھی صاف انکار کر دیا۔

وفاقی کمیٹی کے لیے یہ رویہ انتہائی حیران کن تھا کہ صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار کیوں نہیں۔ معاہدے پر باضابطہ اتفاق رائے سے پہلے ہی کے پی حکومت کی جانب سے بار بار لانگ مارچ کی دھمکیاں دی جاتی رہیں جبکہ ریاستی ادارے اور حکومت دیگر امور پر مسلسل لچک دکھا رہے تھے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذاکرات کے ناکام ہونے کی بنیادی ذمہ داری خیبرپختونخوا حکومت کے سخت گیر رویے پر عائد ہوتی ہے جن کی مبینہ ضد اور سیاسی ہٹ دھرمی نے تمام تر مصالحتی کوششوں پر پانی پھیر دیا۔

Related Posts