نئے صوبوں کے قیام کی جانب اہم قدم! اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اسمبلی قائم کرنے کی تجویز

تازہ ترین

تازہ ترین

اسلام آباد اسمبلی کے قیام سے متعلق مجوزہ مسودہ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردیا گیا جسے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے تیار کیا ہے۔

مجوزہ منصوبے کے تحت آئینی ترمیم کے بجائے ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اسمبلی قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسمبلی کے 21 ارکان براہ راست منتخب ہوں گے جبکہ خواتین کے لیے 5 اور اقلیتوں کے لیے ایک مخصوص نشست رکھی جائے گی۔

مسودے میں اسلام آباد کے لیے وزیراعلیٰ یا میئر پر مشتمل چیف ایگزیکٹو، 27 انتظامی محکمے اور صوبائی طرز کی انتظامی و مالی خودمختاری تجویز کی گئی ہے۔ صحت، تعلیم، ماحولیات اور شہری سہولیات مقامی حکومت کے دائرہ اختیار میں دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔

قانون و امن اور ماسٹر پلاننگ وفاق کے پاس رکھنے جبکہ دیگر انتظامی امور منتخب حکومت کو منتقل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ سی ڈی اے سمیت مختلف اداروں کے اختیارات بھی نئے انتظامی ڈھانچے کے تحت ازسرنو ترتیب دینے کی تجویز ہے۔

مسودے کے مطابق اسمبلی ارکان پر آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق ہوگا اور انتخابات الیکشن کمیشن کرائے گا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد اس حوالے سے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قانون سازی کی جائے گی۔

Related Posts

ستاروبیلسک سے زاپوریژژیا تک؛ جنگ کے بیانیوں سے پرے ایک انسانی المیہ ستاروبیلسک اور زاپوریژژیا کے سانحات شہریوں کے تحفظ، جواب دہی اور متاثرین کو دی جانے والی ترجیحی توجہ کے بارے میں کئی غیر آرام دہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ متضاد بیانیوں سے قطع نظر اس کے پیچھے ایک انسانی المیہ موجود ہے۔ ہر شہری کی جان کا ضیاع یاد رکھے جانے کا حق دار ہے، اس بات سے قطع نظر کہ گولی کس فریق نے چلائی۔ یوکرین کی جنگ کے دوران گزشتہ چار برس (2022 تا 2026) میں، بالخصوص روس کے زیرِ کنٹرول یا زیرِ انتظام علاقوں میں، یوکرینی مسلح افواج کی جانب سے کیے گئے حملوں میں شہری آبادی کے خلاف بہت سے سنگین جرائم دیکھنے میں آئے ہیں تاہم اقوام متحدہ کے اداروں اور انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والی تنظیموں نے ان واقعات کو مناسب طور پر دستاویزی شکل نہیں دی۔ اس کے برعکس انہوں نے یوکرینی افواج کی جانب سے رپورٹ کیے گئے مظالم کو بڑی حد تک اسی طرح قبول کیا جس طرح انہیں پیش کیا گیا۔ متعدد مواقع پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے یوکرینی حکومت اور اس کی افواج کے نمائندوں کو ان پر ہونے والے حملوں کے طریقہ کار کی وضاحت کرنے کے مواقع فراہم کیے۔ 21 جولائی 2026 کو اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے ترجمان تمین الکیتان نے جنیوا میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ یوکرین کا تنازع شہریوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ حالیہ ہلاکتیں ہیٹی میں جاری تشدد کی ایک واضح یاد دہانی ہیں۔ رہائشی عمارتوں اور اہم شہری بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرنے والے طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں کا پیمانہ اور شدت تشویش ناک ہے۔ حالیہ دنوں میں یوکرین بھر کے علاوہ روسی فیڈریشن میں بھی متعدد حملے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں ہوئیں۔ یہ حملے رکنے چاہئیں کیونکہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو سخت تحفظ حاصل ہے، اور اس نوعیت کا کوئی بھی دانستہ حملہ جنگی جرم ہے۔‘‘ اگرچہ انہوں نے روسی فیڈریشن میں شہری بنیادی ڈھانچے پر یوکرینی افواج کے حملوں کا ذکر کیا تاہم ان کی توجہ زیادہ تر کیف کی جانب رہی۔ ان کے ہمراہ یوکرین ٹیم کے سربراہ بھی تھے تاکہ یوکرین کی صورتِ حال کی واضح وضاحت کی جا سکے جو عموماً وہی ہوتی ہے جو کیف کی حکومت اقوام متحدہ کے اداروں کے نمائندوں کو بتاتی ہے۔ شاید روسی وفاق کے ساتھ ان کا کمزور یا محدود رابطہ ہی اس بات کا سبب بنتا ہے کہ وہ شہری بنیادی ڈھانچے پر یوکرینی حملوں کو کم اہمیت دیتے ہیں۔ تاہم 21 جولائی 2026ء کی اپنی پریس بریفنگ میں تمین الکیتان نے یہ بھی نوٹ کیا کہ یوکرین کی جانب سے کیے جانے والے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملے بھی مبینہ طور پر شہری ہلاکتوں اور روس کے اندر ایک نجی کمپنی کے لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 17 اور 18 جولائی کی درمیانی شب روسی حکام نے متعدد حملوں کی اطلاع دی، جن میں ماسکو اور تامبوف کے علاقوں میں وائلڈ بیریز کے لاجسٹکس مراکز پر حملے بھی شامل تھے، جن میں آٹھ شہری ہلاک اور 86 دیگر زخمی ہوئے۔‘‘ اس سے صرف چند ماہ قبل 22 مئی 2026ء کو، یوکرین نے عوامی جمہوریہ لوہانسک کے شمال مشرقی حصے میں واقع ستاروبیلسک میں طلبہ کے ایک ہاسٹل پر حملہ کیا۔ اس وقت عمارت کے اندر 86 بچے اور کچھ اساتذہ و انتظامی عملہ موجود تھا جب یوکرین کی مسلح افواج نے بغیر پائلٹ کے فضائی طیاروں کے ذریعے مقامی ووکیشنل کالج کے ہاسٹل اور تعلیمی عمارت کو نشانہ بنایا۔ یہ کالج لوہانسک پیڈاگوگیکل یونیورسٹی سے منسلک تھا۔ ماسکو کی جانب سے تعینات علاقائی گورنر لیونیڈ پاسچنک نے حملے کی اطلاع دیتے ہوئے اسے ایک بھیانک جرم قرار دیا۔ اس حملے میں 21 طلبہ ہلاک ہوئےجن میں 18 نوجوان خواتین اور 3 نوجوان مرد شامل تھے اور ان سب کی عمریں 23 سال سے کم تھیں۔ 60 سے زائد دیگر افراد مختلف نوعیت کی چوٹوں کا شکار ہوئے۔ پاسچنک نے میڈیا کو بتایا کہ رات کے حملے کے دوران یوکرینی ڈرونز نے لوہانسک پیڈاگوگیکل یونیورسٹی کے پانچ منزلہ ہاسٹل کو نشانہ بنایا۔ اس کے بعد عمارت منہدم ہوگئی اور کچھ لوگ ملبے تلے دب گئے۔‘‘ ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے ایک بیان میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اسے دہشت گرد حملہ قرار دیا اور کہا کہ یہ حملہ دانستہ تھا۔ انکے مطابق یوکرینی افواج نے اسی مقام پر تین لہروں میں حملے کیے۔ ادھر الجزیرہ کی ماسکو میں نمائندہ یولیا شاپووالوا نے رپورٹ کیا کہ زخمی بچوں اور ہلاک ہونے والوں کی لاشیں نکالنے کے لیے امدادی کارروائی جاری رہی حالانکہ مزید بغیر پائلٹ کے فضائی طیاروں (UAVs) کے حملوں کا خطرہ مسلسل موجود تھا۔ لوہانسک جس پر روس نے اپریل 2026ء میں مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا، یوکرین کے ان چار علاقوں میں سے ایک ہے جن پر روسی افواج نے قبضہ کیا ہوا ہے یا جو جزوی طور پر ان کے قبضے میں ہیں۔ روسی افواج کو پیچھے ہٹانے اور ان علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے یوکرین کی مسلح افواج روس کی شہری آبادی اور شہری بنیادی ڈھانچے کے خلاف باقاعدگی سے حملے کرتی ہیں۔ تاہم روسی حکام کے مطابق، ستاروبیلسک کا حملہ اس حد تک پہنچ گیا جس نے روس کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا اور سرخ لکیر عبور کر دی۔ ان کے مطابق بچوں اور نوجوانوں کے خلاف اس دہشت گرد کارروائی نے بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی کی بالخصوص 1949 کے جنیوا کنونشنز اور ان کے اضافی پروٹوکولز، نیز 1989ء کے بچوں کے حقوق کے کنونشن کی۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا اور اس کے نتیجے میں یوکرین میں روسی فوجی کارروائیاں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئیں۔ 25 مئی 2026ء کو ستاروبیلسک کے سانحے کے بعد روسی مسلح افواج نے کیف میں یوکرین کے فوجی صنعتی کمپلیکس سے متعلق اداروں کے خلاف جوابی حملوں کی ایک منظم مہم شروع کی۔ ان حملوں میں خاص طور پر ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جو یوکرینی حکومت کی جانب سے نیٹو کے ماہرین کی مدد سے استعمال کیے جانے والے ڈرونز کی تیاری، ڈیزائن، پروگرامنگ اور استعمال کی تیاری سے متعلق تھے۔ روسی موقف کے مطابق، ان ماہرین نے اجزا فراہم کرنے، انٹیلی جنس معلومات اور اہداف کی نشاندہی میں مدد فراہم کی۔ آدھی رات کے وقت روسی فوج نے یوکرین کے خلاف جوابی حملوں کا پہلا سلسلہ شروع کیا، جس میں اوریشنک بیلسٹک میزائل، اسکندر ایئروبیلسٹک میزائل، کنزال ہائپرسونک میزائل اور زیرکون کروز میزائل استعمال کیے گئے۔ یوکرینی مسلح افواج نے تسلیم کیا کہ ملک کا فضائی دفاع کیف پر ہونے والے حملوں کو روکنے میں ناکام رہا۔ وہ نہ تو کنزال اور نہ ہی زیرکون میزائلوں کو مار گرا سکا، جبکہ 30 اسکندر میزائلوں میں سے صرف 11 کو روکے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ مغربی ممالک اور ان کے میڈیا نے بڑی حد تک ستاروبیلسک کے حملے کو نظر انداز کیا لیکن ماسکو کے جوابی حملوں کی فوری مذمت کی۔ ایک بار پھر یورپی رہنماؤں نے کیف حکومت کو فوجی امداد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا جسے روس یوکرین کے جرائم میں معاونت تصور کرتا ہے۔ اس طرح کا رویہ، مصنف کے مطابق صرف تنازع کو مزید بڑھانے کا باعث بنتا ہے اور نتیجتاً بامقصد امن مذاکرات کے امکانات مزید غیر یقینی ہوتے جا رہے ہیں۔ حتیٰ کہ بین الاقوامی تنظیموں کا ستاروبیلسک کے واقعے کے بارے میں ردِعمل بھی خاصا کمزور رہا۔ خاص طور پر یونیسکو سیکریٹریٹ نے ستاروبیلسک حملے پر انتہائی محتاط بیان جاری کیا اور صرف اتنا کہا کہ شہری ہلاکتوں سے متعلق اطلاعات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی۔ روسی حکام نے غیر ملکی صحافیوں کے لیے ستاروبیلسک کے دورے کا انتظام کیا۔ پاکستان سمیت 20 ممالک سے تعلق رکھنے والے 51 میڈیا نمائندے حملے کی جگہ کا دورہ کرنے اور وہاں کی صورتِ حال کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے میں کامیاب ہوئے۔ اس میڈیا گروپ میں امریکا اور یورپ کے صحافی بھی شامل تھے۔ اسی دوران بعض کھلے عام روس مخالف حلقوں نے سانحے کے بعد کی صورتِ حال کو خود دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اطلاعات کے مطابق بی بی سی نے اپنے نمائندے بھیجنے سے انکار کیا جبکہ جاپانی حکام نے اپنے صحافیوں کو اس حملے کی کوریج کرنے سے روک دیا۔ یوکرینی میڈیا نے بھی مبینہ طور پر متاثرین کا مذاق اڑایا۔ مصنف کے مطابق یہ بات قابلِ حیرت ہے کہ یوکرین اور امریکا کے ساتھ منسلک ممالک اور میڈیا، روسی شہریوں جن میں بچے، طلبہ اور خواتین بھی شامل ہیں کے خلاف یوکرینی افواج کی جانب سے پیدا ہونے والے انسانی بحران اور جنگی جرائم کے معاملے میں بھی متعصبانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ یوکرین کی مسلح افواج نے روس کے جوابی حملوں کے جواب میں 27 سے 31 مئی 2026ء کی درمیانی راتوں میں روس کے شہری بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کے خلاف مزید شدید حملے کیے۔ اس مرتبہ گولہ باری کا نشانہ انرگودار شہر کے رہائشی علاقے اور شہری بنیادی ڈھانچہ بنے جہاں زاپوریژژیا نیوکلیئر پاور پلانٹ کے بہت سے ملازمین اور ماہرین رہائش پذیر ہیں۔ ان حملوں میں ایک کنڈرگارٹن اور زچگی کے اسپتال کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ زاپوریژژیا نیوکلیئر پاور پلانٹ یورپ کا سب سے بڑا جوہری بجلی گھر ہے۔ اس واقعے کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ 31 مئی 2026 کی نصف شب، یوکرین کی مسلح افواج نے ڈرونز کے ذریعے زاپوریژژیا نیوکلیئر پاور پلانٹ کے ایک پاور یونٹ کو مبینہ طور پر دانستہ طور پر دو مرتبہ نشانہ بنایا۔ نتیجتاً ٹربائن ہال کی دھاتی تہہ میں 30 سینٹی میٹر کا سوراخ ہوگیا جو ری ایکٹر سے صرف 10 میٹر کے فاصلے پر تھا۔ خوش قسمتی سے ان حملوں میں کسی جانی نقصان یا تنصیبات کو کسی سنگین نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تاہم دو ہفتے بعد، 15 جولائی 2026ء کو، مضمون کے مطابق، یوکرین نے ایک ڈرون کے ذریعے زاپوریژژیا نیوکلیئر پاور پلانٹ کے چیف انجینئر الیگزینڈر یاکوولیف کو ہلاک کر دیا۔ مصنف کے مطابق یہ حملہ اسٹیشن کے محفوظ آپریشن کو نقصان پہنچانے کی ایک اور کوشش تھا۔ کیف اپنے امریکی اور یورپی سرپرستوں کے ساتھ، اس ممکنہ تباہی سے بخوبی آگاہ ہے جو یورپ کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر کی جوہری سلامتی کے خلاف اشتعال انگیزیوں کے نتیجے میں پوری دنیا کے لیے پیدا ہوسکتی ہے۔ اس کے باوجود، مصنف کے مطابق، یہ سلسلہ براعظم کو جوہری تباہی کے دہانے پر پہنچانے کا سبب بن رہا ہے۔ مصنف: منیر احمد، Devcom Centre for Geopolitical Studies کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ترقیاتی امور کے ماہر اور پالیسی تجزیہ کار ہیں، جو علاقائی تعاون اور ماحولیاتی سفارت کاری پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ ای میل: devcom.pakistan@gmail.com