آگ لگتی ہے تو لوگ مر جاتے ہیں، اسے سیاسی رنگ نہ دیں! پی پی رہنما شہلا رضا کا بیان وائرل

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا کا ایک پرانا ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر دوبارہ گردش کر رہا ہے جس میں وہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہتی دکھائی دیتی ہیں کہ آگ لگتی ہے اور لوگ مر جاتے ہیں۔

ناقدین نے اسی بیان کو بنیاد بناتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ایک جانب گل پلازہ سانحے پر آگ لگنے کو ایک واقعہ قرار دیا گیا جبکہ دوسری جانب پمز اسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں 15 نومولود بچوں کی ہلاکت پر پیپلز پارٹی کے رہنما صوبائی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

گل پلازہ آتشزدگی سے متعلق شہلا رضا کا ماضی کا بیان ایک مرتبہ پھر سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گل پلازہ میں 80 افراد کی جانیں جانے سے لے کر کراچی کے تباہ حال یونیورسٹی روڈ تک پیپلز پارٹی کو اپنی کارکردگی کے حوالے سے جواب دینا چاہیے تاہم ان کا مؤقف ہے کہ پمز اسپتال کے افسوسناک واقعے کو سیاسی معاملہ بنانا بھی قابلِ اعتراض ہے۔

شہلا رضا نے سانحہ گل پلازہ کے بعد قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیوزی لینڈ میں آتشزدگی کے ایک واقعے میں 40 افراد ہلاک ہوئے، کیلی فورنیا میں بھی آگ سے بڑے سانحات ہوئے جبکہ لاہور کے حفیظ سینٹر میں بھی تین مرتبہ آگ لگنے کے واقعات پیش آچکے ہیں لیکن ان واقعات کو سیاسی مسئلہ نہیں بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آگ ایک حادثہ ہے اور ایسے واقعات ہو جاتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں گفتگو کے دوران شہلا رضا نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا تھا کہ ایک واقعے کو بنیاد بنا کر معاملے کو صوبوں، 18ویں ترمیم اور بنیادی تعلیم جیسے موضوعات تک لے جایا گیا۔ انہوں نے سندھ کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ صوبے کو قبل از مسیح کے زمانے سے دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ سندھ کی تاریخ ہزاروں برس پرانی ہے۔

شہلا رضا کے ان بیانات کی بنیاد پر ناقدین کی جانب سے پیپلز پارٹی پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گل پلازہ میں 80 افراد کی ہلاکت اور کراچی کے بنیادی شہری مسائل پر پیپلز پارٹی کو عوام کے سامنے جواب دینا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پمز اسپتال میں معصوم نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا مناسب نہیں۔

Related Posts