پمز سانحہ! 2018 سے ملنے والے فائر سیفٹی نوٹسز کو ہوا میں اڑایا گیا، اہم انکشاف منظر عام پر

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز اسپتال) کی نرسری میں رونما ہونے والے دلخراش آتشزدگی کے واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے جہاں اس حادثے کے نتیجے میں 15 نومولود بچے لقمہ اجل بن گئے۔ اس المناک سانحے کے بعد اب اسپتال انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور مجرمانہ لاپرواہی کے ہولناک حقائق سامنے آ گئے ہیں۔

2018 سے جاری نوٹسز اور مسلسل تنبیہات

نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کے فائر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پمز اسپتال کو فائر سیفٹی کے ناکافی انتظامات پر سال 2018 سے مسلسل نوٹس جاری کیے جا رہے تھے۔ فائر اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے فائر سیفٹی آڈٹ میں سامنے آنے والی خامیوں کو دور کرنے کے لیے انتظامیہ کو متعدد بار متنبہ کیا اور اصلاحی اقدامات کی ہدایات جاری کیں لیکن ذمہ داران نے ان وارننگز کو ہمیشہ کی طرح پسِ پشت ڈال دیا۔

فائر سیفٹی نوٹیفکیشن میں نشاندہی کردہ اہم خامیاں

ذرائع کے مطابق ایم سی آئی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشنز میں جن اہم امور کی نشان دہی کی گئی تھی ان میں پمز میں فائر پریوینٹیو، فائر پروٹیکشن اور لائف سیفٹی کے آلات کی تنصیب کا عمل نامکمل پایا جانا شامل تھا۔

اس کے علاوہ فائر سیفٹی سسٹم کی دیکھ بھال اور اسے چوبیس گھنٹے آپریشنل رکھنے کے لیے ماہر عملے کی تعیناتی نہیں کی گئی۔ اسپتال انتظامیہ کو بارہا فائر سیفٹی پلانز کی منظوری، ضروری این او سی اور فائر سیفٹی کمپلیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی۔

ملازمین، اسٹاف اور اسپتال میں موجود افراد کے لیے فائر سیفٹی اور بلڈنگ ایویکیوشن ٹریننگ کرانے کے ساتھ ساتھ فائر ایمرجنسی کی صورت میں تیاری جانچنے کے لیے باقاعدہ ڈرلز اور ہنگامی مشقیں کروانے کی ہدایات بھی دی گئی تھیں مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

2024 کا نوٹس اور آخری مہلت بھی بے اثر

انتظامیہ کی ہٹ دھرمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سال 2024 کے نوٹس میں بھی یہی نشاندہی کی گئی کہ پمز میں فائر سیفٹی سے متعلق مطلوبہ اقدامات تاحال ادھورے ہیں۔

میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کے نوٹیفکیشن میں پمز کو فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کرنے اور تمام ضروری اقدامات تین ماہ میں مکمل کرنے کی سخت ہدایات جاری کی گئی تھیں لیکن یہ تمام تنبیہات دھرکی دھر ہی رہ گئیں اور بروقت اقدامات نہ ہونے کے باعث بالآخر نرسری میں آگ لگنے سے 15 معصوم ننھی جانیں ضائع ہو گئیں۔

Related Posts