بھارتی ساحل کے قریب قیامت برپا! پاناما کا مال بردار بحری جہاز ڈوب گیا، 22 افراد لاپتہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

بھارت کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی گہرائیوں میں ایک ہولناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں پاناما کا پرچم بردار مال بردار بحری جہاز لہروں کی نذر ہو کر ڈوب گیا ہے۔اس حادثے کے بعد سے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر ہلچل مچ گئی ہے جبکہ بھارتی کوسٹ گارڈ کا عملہ جہاز میں سوار 24 افراد کی تلاش اور زندگی بچانے کے لیے ایک بڑے ریسکیو آپریشن میں دن رات مصروف ہے۔

رابطہ منقطع اور عملے کی قومیّت کی تفصیلات

بھارتی کوسٹ گارڈ کے مطابق گزشتہ روز سمندر میں ڈوبنے والے اس بحری جہاز سے اچانک تمام رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔ حادثے کا شکار ہونے والے اس جہاز پر کل 24 افراد کا عملہ سوار تھا جن میں انتہائی کثیر تعداد یعنی 20 چینی شہری، 3 میانمار کے باشندے اور ایک بنگلہ دیشی شہری شامل ہے۔

ریسکیو آپریشن کا آغاز اور ابتدائی کامیابیاں

واقعے کی فوری نوعیت کو دیکھتے ہوئے بھارتی کوسٹ گارڈ کے ترجمان کمانڈنٹ امیت یونیال نے بتایا کہ اطلاع ملتے ہی سری وجے پورم (جسے ماضی میں پورٹ بلیئر کے نام سے جانا جاتا تھا) سے فوری طور پر دو خصوصی بحری جہاز سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے لیے روانہ کر دیے گئے۔ بھارتی کوسٹ گارڈ کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں ریسکیو ٹیموں نے لائف رافٹس سے 2 افراد کو بحفاظت نکال لیا ہے جبکہ باقی ماندہ لاپتا افراد کی تلاش کے لیے سمندر میں جستجو کا عمل تاحال جاری ہے۔

جہاز کا سفر، مالِ تجارت اور جائے وقوعہ

سرکاری ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق، یہ بدقسمت بحری جہاز جس کا نام اوشن ونر تھا جمعرات کے روز بھارت کی مشرقی بندرگاہ پارادیپ سے سنگاپور کے لیے روانہ ہوا تھا۔ اس جہاز پر لوہے کی کچ دھات (آئرن اور) لدی ہوئی تھی اور یہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا کہ بندرگاہ سے تقریباً 240 ناٹیکل میل کے طویل فاصلے پر سمندر کی تہوں میں ڈوب گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تاحال اس خوفناک بحری حادثے کی اصل وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

حکام کی تشویش اور تلاش کا دائرہ کار

پارادیپ پورٹ اتھارٹی کے ڈپٹی کنزرویٹر کیپٹن الیکھا چرن ساہو نے جہاز کے عملے کی سلامتی کے لیے تہہ دل سے دعا کی ہے اور اس پرامید اظہار کیا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں باقی ماندہ افراد کو بھی بحفاظت تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔

بھارتی حکام کے مطابق، لاپتا افراد کی تلاش کے لیے سمندر میں وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے اور ریسکیو ٹیمیں مختلف ممکنہ مقامات پر انتہائی جانفشانی سے کارروائیاں کررہی ہیں۔ کوسٹ گارڈ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ آپریشن کے دوران درپیش سمندری حالات اور دیگر موسمی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے لاپتا افراد کی تلاش کے دائرہ کار کو مزید بڑھایا جاسکتا ہے۔

Related Posts