ٹنڈوالہیار: 16 سالہ لڑکی تشدد کے بعد غیرت کے نام پر قتل، والد اور بھائی گرفتار

تازہ ترین

تازہ ترین

سندھ کے ضلع ٹنڈو الہیار میں 16سالہ کمسن لڑکی کی ہلاکت قتل نکلی، پولیس نے قتل کے شبے میں والد اور بھائی دونوں کو نامزد ملزمان قرار دیتے ہوئے گرفتار کرلیا ہے۔سرکار کی مدعیت میں درج کیے گئے مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بچی کو تشدد کے بعد غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ٹنڈو الہیار میں 16 سالہ بچی کو 1روز قبل غیرت کی بنیاد پر قتل کیا گیا۔ بچی کی شناخت فروا قائم خانی کے نام سے ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ٹنڈو الہیار کی جناح کالونی میں پیش آیا جہاں مقتولہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد سینے میں گولی مار دی گئی۔

مقتولہ کی بائیں کلائی پر کے ایف کے الفاظ تحریر کیے گئے تھے، تاہم پولیس نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کے ایف سے کیا مراد تھا۔  پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کے والد زبیر قائم خانی اور بھائی عبداللہ قائم خانی نے چھت پر لے جا کر بچی کو پہلے تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر گولی مار کر قتل کردیا۔

ٹنڈو الہیار پولیس کے مطابق مقتولہ کے والد زبیر اور بھائی عبداللہ کے علاوہ مقدمے میں 2 رشتہ داروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے جن میں اسامہ قائم خانی اور عمران قائم خانی شامل ہیں۔ ملزمان پر جرم کو چھپانے اور دیگر 2 ملزمان کے ہمراہ قتل کے ثبوت مٹانے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ سندھ میں غیرت کے نام پر اس سے قبل بھی بے شمار بچیوں کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فروا کے قتل کا مقدمہ سرکاری مدعیت میں قتل کے علاوہ جرم کے ثبوت مٹانے کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے بعد واقعے کے متعلق مزید تفتیش جاری ہے۔

Related Posts