پیٹرولیم سبسڈی دینے سے ملکی خزانہ خالی ہوجائے گا! علی پرویز ملک نے حقیقت بتادی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

حکومت پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے موجودہ نظام میں اصلاحات پر غور جاری ہے۔ تجاویز میں پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) اور فیول پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ کے قیام جیسے اقدامات شامل ہیں جن کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کم کرنا ہے جبکہ قیمتوں کا تعین مارکیٹ کے مطابق برقرار رکھا جائے گا۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ یہ تجاویز حکومت کی معاشی ٹیم اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق وہ اگست اور ستمبر میں پاکستان آنے والے آئی ایم ایف مشن کے ساتھ بھی اس معاملے پر تفصیلی بات کریں گے۔

وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ زیر غور تجاویز میں ایک متحرک پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی متعارف کرانے کی تجویز بھی شامل ہے جس کے تحت اگر عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو جائے تو حکومت عارضی طور پر لیوی کم کر سکے گی جبکہ قیمتیں معمول پر آنے پر اسے دوبارہ بحال کر دیا جائے گا۔

حکومت ایک ایسے فیول پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ کے قیام پر بھی غور کر رہی ہے، جو عالمی تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے یا کمی کے اثرات کو متوازن رکھنے میں مدد دے بغیر اس کے کہ تمام صارفین کو عمومی ایندھن سبسڈی دی جائے۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے دوران بھی حکومت نے اسی طرز پر عارضی طور پر پیٹرولیم لیوی میں کمی کی تھی اور عالمی قیمتیں مستحکم ہونے کے بعد اسے مرحلہ وار دوبارہ بحال کر دیا گیا تھا۔

انہوں نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کے لیے تمام صارفین کو یکساں ایندھن سبسڈی دینا ممکن نہیں کیونکہ اس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا موقف ہے کہ ضرورت مند اور کم آمدنی والے طبقے کو ہدف بنا کر ریلیف فراہم کیا جائے۔

وفاقی وزیر نے ریفائنری مارجن سے متعلق حکومتی پالیسی کا بھی دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قائم کردہ کمیٹی ریفائنری مالکان سے مشاورت کر رہی ہے تاکہ ایک طرف عوام کو ریلیف دیا جا سکے اور دوسری جانب ریفائنریوں کو اتنا منافع بھی ملے کہ وہ براؤن فیلڈ ریفائنریز اپ گریڈ پالیسی کے تحت نئی سرمایہ کاری کر سکیں۔

Related Posts