اسلام آباد میں واقع پاکستان مونومنٹ پر ویڈیو بناتے ہوئے ایک جاپانی سیاح اور وی لاگر خاتون کو مبینہ طور پر اوباش نوجوانوں کے ایک گروپ کی جانب سے ہراساں کیے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق جاپانی وی لاگر خاتون کی وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غیر ملکی سیاح پاکستان کے اس قومی یادگار مقام پاکستان مونومنٹ پر ویڈیو ریکارڈ کر رہی تھیں کہ اسی دوران چند نوجوان ان کے گرد جمع ہوگئے اور وہ جہاں جہاں گئیں، ان کا مسلسل پیچھا کرتے رہے۔
ویڈیو میں وی لاگر کو بار بار “معاف کیجیے” کہتے اور نوجوانوں سے پیچھا چھوڑنے کی درخواست کرتے سنا جا سکتا ہے، تاہم مبینہ طور پر بعض افراد ان کے ساتھ چلتے رہے، ان سے سماجی رابطوں کے صفحات پر فالو کرنے کا مطالبہ کرتے رہے اور ایسے جملے کہتے رہے جن سے وہ واضح طور پر پریشان دکھائی دیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اسلام آباد کے علاقے شکرپڑیاں کی پہاڑیوں میں واقع پاکستان مونومنٹ پر پیش آیا، جو کنول کے پھول کی شکل میں تعمیر کی گئی قومی یادگار ہے اور ملک کے مقبول ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔اسلام آباد پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم تاحال کسی گرفتاری یا مزید سرکاری تفصیلات کا اعلان نہیں کیا گیا۔
اس واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سماجی رابطوں کی مختلف ویب سائٹس پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا، جہاں متعدد پاکستانی صارفین نے نوجوانوں کے رویے کی مذمت کرتے ہوئے متعلقہ افراد کی شناخت اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ کئی صارفین کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات پاکستان کا تشخص متاثر کرتے ہیں اور غیر ملکی سیاحوں کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتے ہیں۔
واقعے پر ردِعمل ظاہر کرنے والوں میں اداکار عادی خان بھی شامل تھے، جنہوں نے ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے واقعات بیرونِ ملک پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








