اگر کوئی شخص احمقانہ کام کرتے ہوئے پکڑا جائے تو عموماً اس سے سوال کیا جاتا ہے کہ کیا تمہارے پاس دماغ نہیں ہے؟ یا کیا تم سوچتے سمجھتے نہیں ہو؟ جبکہ سائنسی تحقیق سے سامنے آنے والا ایک نیا انکشاف ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انسانی دماغ بہت سارے کام سوچے سمجھے بغیر کرلیتا ہے جسے دماغ کا آٹو پائلٹ موڈ بھی قرار دیاجاسکتا ہے۔
سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اگر کبھی کسی انسان کو ایسا محسوس ہو کہ وہ بار بار ایک ہی کام بغیر سوچے سمجھے کرتا جارہا ہے اور اس سے چھٹکارہ ممکن نہیں تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے دلی جذبات کی بجائے دماغ کے افعال پر غور کرتے ہوئے ان کی اصلاح کرے۔
سب سے پہلا کام تو یہ ہے کہ انسان اس لوپ یعنی مسلسل ہونے والے کام کی تکرار کا رجحان سمجھے اور اس کے بعد اس رجحان سے چھٹکارے کی منصوبہ بندی کی جانی چاہئے۔ خاص طور پر اگر کوئی انسان گزشتہ 5 منٹ میں کیا ہوا تھا؟ یہ یاد ہی نہ رکھ سکے تو اسے یہ کام ضرور کرنا چاہئے۔
سائنسی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی دماغ میں ایک خفیہ طریقہ کار موجود ہے جس کے تحت وہ سوچے سمجھے بغیر مختلف افعال سرانجام دیتا ہے جو درجنوں ہوسکتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی دماغ بہت اچھی طرح یہ بات سمجھتا ہے کہ ہر کام سے سوچنا کتنی زیادہ توانائی ختم کرسکتا ہے۔
اسی توانائی کو بچانے کیلئے ہمارا دماغ بہت سے کاموں کو آٹو پائلٹ پر رکھتا ہے یعنی انہیں خودکار طریقے سے سرانجام دینا اپنا اصول بنا لیتا ہے۔ خاص طور پر روزمرہ زندگی میں بار بار سرانجام دئیے جانے والے افعال کو ایک اسکرپٹ کے طور پر جسم میں فیڈ کردیتا ہے کہ اگر فلاں شرط پوری ہوجائے تو اٹھنا اور سوچے سمجھے بغیر یہ کام کرلینا۔
مثال کے طور پر اگر آپ نے نیا گھر لیا ہو تو آپ کو ہر بار لائٹ آن کرنے سے قبل سوچنا پڑتا ہے کہ سوئچ کہاں ہے اور واش روم میں داخل ہونے سے قبل دیکھنا پڑتا ہے کہ اس کا دروازہ کیسے کام کرے گا لیکن جب مہینوں یہی کرتے ہوئے گزر جائیں تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ آپ کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر باتھ روم میں گھس جاتے ہیں اور لائٹ بھی خود ہی آن کرلیتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ اگر ہاتھ غلط سمت چلا گیا تو کرنٹ بھی لگ سکتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ دماغ نے ہاتھوں اور پیروں کو اچھی طرح حفظ کرادیا ہے کہ باتھ روم میں داخل ہونے کیلئے کس سمت میں کتنے قدم چلنا ہے اور لائٹ آن کرنے کیلئے اپنا ہاتھ کس سمت میں کس رفتار کے ساتھ آگے بڑھانا ہے، یوں انسان سوچتا نہیں اور کام خودبخود ہوتا چلا جاتا ہے، سال 2006 میں اسی عمل پر ایک سائنسی تحقیق کی گئی تھی۔
ڈیوک یونیورسٹی کے محققین نے دریافت کیا کہ انسانی دماغ اپنے روزمرہ کے کم از کم 43فیصد افعال مثلاً فون دیکھنا، ٹی وی آن کرنا، فریج کھولنا یا کچن میں جا کر چولہا جلا لینا، خودکار طریقے سے سرانجام دیتا ہے لیکن تمام افراد پر ایک جیسا فارمولا لاگو نہیں ہوتا، تاہم یہ آٹو پائلٹ کا فارمولا ہی انسان کو بہت سی نئی یادوں سے محروم کردیتا ہے۔
محققین کا ماننا ہے کہ چونکہ بچپن میں انسانی دماغ خودکار طریقے سے کام نہیں کرتا اور ہر چیز کو یاد کرنے اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، اس لیے بچپن اسے سب سے زیادہ یاد رہتا ہے اور جوانی اور بڑھاپے میں چونکہ بہت زیادہ افعال آٹو پائلٹ طریقہ کار سے انجام دئیے جاتے ہیں، اس لیے وہ دور تیزی سے گزر جانے کی شکایت عام ہوچکی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








