حزب اللہ ایرانی پراکسی، امریکا نے 10 افراد پر پابندیاں لگادیں

تازہ ترین

تازہ ترین

واشنگٹن: امریکا کی ڈونلڈ ٹرمپ حکومت نے حزب اللہ کو مبینہ مالی معاونت فراہم کرنے والے نیٹ ورک کیلئے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے تنظیم کے ایران سے قریبی تعلقات پر تنقید کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ 10 افراد کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جبکہ مالی معاونت فراہم کرنے والا نیٹ ورک لبنان، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور ایران کے مابین تجارتی پروازوں کے ذریعے بڑی رقوم منتقل کرنے میں ملوث رہا ہے۔

امریکی حکام نے الزام عائد کیا کہ یہ نیٹ ورک کروڑوں ڈالرز تک منتقل کردیتا تھا جس سے حزب اللہ کو غیر رسمی مالی نظام کے ذریعے غیر ملکی کرنسی کے حصول اور پابندیوں سے بچنے میں مدد مل رہی تھی۔ امریکا نے حزب اللہ کی قانونی حیثیت کی وضاحت بھی تبدیل کردی۔

حزب اللہ کی قانونی حیثیت کی وضاحت میں تبدیلی کرتے ہوئے امریکا نے تنظیم کو ایرانی حکومت کیلئے کام کرنے والی تنظیم اور ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی القدس فورسز کے زیر اثر قرار دے دیا۔ خیال رہے کہ امریکا حزب اللہ کو 1997 میں ہی غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔

Related Posts