مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے حل کے لیے برسوں سے سلامتی کونسل نے کچھ نہیں کیا۔ ترک صدر

مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے حل کے لیے برسوں سے سلامتی کونسل نے کچھ نہیں کیا۔ ترک صدر

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ مسئلۂ کشمیر اور فلسطین کے حل کے لیے برسوں سے اقوامِ متحدہ کے ادارے سلامتی کونسل نے کچھ نہیں کیا۔ ادارے کو اسرائیل کی ہر بات قبول نہیں کرنی چاہئے۔

رجب طیب ایردوآن نے اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا جانے سے قبل انقرہ میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کے دوران کہا کہ اسرائیل جیسی صہیونی ریاست کو بین الاقوامی ادارے میں اتنی زیادہ اہمیت حاصل نہیں ہونی چاہئے کیونکہ اس کی ہر بات سچ نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم عمران خان سے اسٹڈی گروپ کے بانی فاروق کتھواری کی ملاقات، کشمیر پر گفتگو

ترک صدر نے کہا کہ دُنیا صرف پانچ ممالک کا نام نہیں بلکہ انسانیت پورے روئے زمین پر پھیلی ہوئی ہے مگر انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سلامتی کونسل ویٹو کا حق صرف پانچ ممالک کو دیتا ہے اور سلامتی کونسل میں انہی کی بات مانی جاتی ہے۔

سلامتی کونسل کے بارے میں ترک صدر طیب ایردوآن نے کہا کہ یہ ادارہ اپنے قیام 1948ء سے لے کر آج تک مسئلہ کشمیر اور فلسطین سمیت کوئی بھی بڑا مسئلہ حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ فلسطین کے مسئلے کو اقوام متحدہ میں ستر سال ہو چکے ہیں مگر اقوام متحدہ اسرائیل سے کوئی بات نہ منوا سکی۔ 

یاد رہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر پر نافذ کیا جانے والا  کرفیو آج 49 ویں دن میں داخل ہوگیا ہے جبکہ مظلوم کشمیریوں کی نقل و حمل اور ذرائع آمدو رفت پر سخت پابندی عائد ہے۔ 

قابض بھارتی فوج نے کشمیریوں پر عرصۂ حیات تنگ کر رکھا ہے جبکہ ٹی وی نشریات، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سمیت مواصلات کا پورا نظام مکمل طور پر بند ہے جس کے باعث زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر پر نافذ کرفیو 49ویں روز میں داخل، نقل و حمل اور ذرائع آمدورفت پر پابندی