قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان کی وزیر دفاع خواجہ آصف پر تنقید کے بعد دونوں رہنماؤں کے بیانات سیاسی بحث کا موضوع بن گئے۔ مولانا فضل الرحمان نے تہران میں ہونے والے مذاکرات اور وزیر دفاع کی عدم موجودگی پر سوال اٹھاتے ہوئے خواجہ آصف کا مشہور جملہ کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے دہرایا جس کے بعد وزیر دفاع نے ایوان میں اپنے مؤقف کی وضاحت کی اور جے یو آئی سربراہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
مولانا فضل الرحمان نے کیا کہا؟
28 اکتوبر کو قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے تہران میں ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیا اور سوال اٹھایا کہ جب اہم معاملات پر ایران میں بات چیت ہو رہی ہے تو وزیر دفاع اور وزیر خارجہ پاکستان میں موجود کیوں ہیں۔
انہوں نے خواجہ آصف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی معاہدے سے متعلق سرگرمیاں ایران میں ہو رہی ہیں جبکہ وزیر دفاع یہاں بیٹھے ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے اور وزیر دفاع کو اپنی عزت و وقار کا خیال رکھنے کا مشورہ دیا۔
خواجہ آصف کا جواب
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے جواب میں واضح کیا کہ تہران میں ہونے والی میٹنگ دفاعی معاہدے سے متعلق نہیں تھی اور وہاں وزیر دفاع کی موجودگی ضروری نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز ان کے حوالے سے جو باتیں کیں وہ ان کا جواب ایوان کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔ خواجہ آصف نے اپنے خطاب میں جے یو آئی سربراہ کے سیاسی ماضی، مختلف جماعتوں کے ساتھ ان کے تعلقات اور سابقہ حکومتی ادوار میں ان کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔
وزیر دفاع نے مولانا فضل الرحمان کی کشمیر کمیٹی کی سربراہی کا حوالہ دیتے ہوئے بھی تنقید کی اور ان کے سابقہ سیاسی مؤقف پر اعتراضات کیے۔ انہوں نے اپنے ماضی کے ایک متنازع بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے حالات کے تناظر میں ان کا موقف درست تھا تاہم وہ ماضی کے حوالے سے معذرت بھی کر چکے ہیں۔
ایوان میں شور شرابا، خواجہ آصف کے سخت جملے
خواجہ آصف کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان کی جانب سے شور شرابا بھی کیا گیا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ انہوں نے پہلے دن مولانا فضل الرحمان کی تقریر خاموشی سے سنی تھی تاہم ان کے بقول اس تقریر میں ذاتی نوعیت کی تنقید کی گئی۔
انہوں نے اپنی تقریر میں مولانا فضل الرحمان کے مذہب اور سیاست سے متعلق کردار پر بھی سخت اعتراضات اٹھائے اور کہا کہ وہ مزید بات نہیں کرنا چاہتے جس سے ایوان کا ماحول خراب ہو۔
اسی دوران اپوزیشن کی خواتین ارکان کی جانب سے احتجاج پر بھی خواجہ آصف نے سخت ردعمل دیا جس سے ایوان میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ اس موقع پر اپوزیشن رکن عالیہ کامران نے کورم کی نشاندہی کی تاہم ایوان میں کورم پورا پایا گیا۔
کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے کا پس منظر
کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے، خواجہ آصف کا ایک معروف سیاسی جملہ ہے جو ماضی میں قومی اسمبلی میں ان کی تقریر کے بعد خاصا مشہور ہوا تھا اور سوشل میڈیا پر بھی اس کا کثرت سے حوالہ دیا جاتا رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اسی جملے کو خواجہ آصف پر تنقید کے لیے استعمال کیے جانے نے حالیہ پارلیمانی بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے بیانات میں تہران اجلاس کے معاملے کے ساتھ ساتھ سیاسی ماضی، حکومتی ذمہ داریوں اور ملک میں جمہوری عمل سے متعلق اختلافات بھی سامنے آئے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








