کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر بلاک ون سے 25 سالہ تاجر میر رضا علی کی تشدد زدہ لاش ملنے کے ہائی پروفائل کیس میں اہم طبی اور تفتیشی انکشافات سامنے آئے ہیں۔
پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ اور سی سی ٹی وی فوٹیجز نے تفتیش کو ایک نیا رخ دے دیا ہے جبکہ پولیس نے اس لرزہ خیز واردات میں کسی قریبی شخص کے ملوث ہونے کا قوی امکان ظاہر کیا ہے۔
پولیس سرجن کی جانب سے کی گئی ابتدائی جانچ کے مطابق میر رضا علی کی ہلاکت کی وجہ طبی اصطلاح میں ہیمرجک شاک قرار دی گئی ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جب جسم سے انتہائی زیادہ خون بہہ جانے کے باعث دماغ اور جسمانی اعضاء کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
پوسٹ مارٹم کے دوران مقتول کے سینے پر گولی لگنے کے واضح شواہد ملے ہیں تاہم پولیس سرجن نے لاش کو آگ یا تیزاب سے جلائے جانے کے کسی بھی امکان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
تفتیشی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اس واردات میں 30 بور کا پستول استعمال کیا گیا لیکن حیران کن طور پر پولیس تاحال جائے وقوعہ سے آلہِ قتل یا گولی کا کوئی خول برآمد نہیں کر سکی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ لاش میں تعفن اور گلنے سڑنے کے آثار پیدا ہو چکے ہیں جس کے باعث موت کے حتمی محرکات اور دیگر تفصیلات کا مکمل تعین کیمیائی تجزیے کی رپورٹ آنے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔
کیس کی تفتیش میں سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے بھی اہم کڑیاں ملائی جا رہی ہیں۔ گزشتہ روز سامنے آنے والی ایک فوٹیج میں میر رضا کو اپنی جیب سے ایک چمکدار چیز باہر پھینکتے ہوئے دیکھا گیا تھا جسے پولیس نے ان کا موبائل فون قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق، جس شہری کو یہ فون ملا تھا اس نے بالکل اسی مقام کی نشاندہی کر دی ہے جہاں فوٹیج میں چیز پھینکی گئی تھی۔
اس سے قبل ملنے والی ایک اور سی سی ٹی وی ویڈیو میں مقتول کو ایک آن لائن ٹیکسی میں سوار ہوتے دیکھا گیا تھا اور تفتیشی ذرائع کے مطابق اس وقت ان کی کمر پر پستول لگا ہوا تھا۔
اس اندھے قتل کے حقائق تک پہنچنے اور بکھرے ہوئے شواہد کو باہم جوڑنے کے لیے پولیس کی تفتیشی ٹیم پوری طرح متحرک ہے۔ اسی سلسلے میں ٹیم نے مقتول کے گھر کے بعد جائے وقوعہ کا دوبارہ تفصیلی دورہ کیا ہے تاکہ مجرموں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








