حکومت کی جانب سے ملکی معیشت میں بہتری، زرمبادلہ ذخائر میں اضافے اور ٹیکس وصولیوں میں نمایاں پیش رفت کے دعوے کیے جا رہے ہیں تاہم سوال یہ ہے کہ ان کامیابیوں کے ثمرات عام شہری تک کب پہنچیں گے؟زرمبادلہ کے ذخائر 52 فیصد اضافے کے ساتھ 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس وصولی بھی 7 فیصد بڑھ کر 3.1 ٹریلین روپے ریکارڈ کی گئی مگر اس کے باوجود مہنگائی، بجلی و گیس کے بلوں اور روزمرہ اخراجات کے بوجھ تلے دبے عوام کے لیے ریلیف ایک اہم سوال بن گیا ہے۔
وفاقی مشیر برائے اقتصادی و مالیاتی اصلاحات خرم شہزاد کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں ملکی برآمدات 11 فیصد اضافے سے 11.2 ارب ڈالر جبکہ ترسیلات زر 14 فیصد اضافے سے 10.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ آئی ٹی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ہوا جبکہ فری لانسرز کی آمدنی 46 فیصد بڑھ کر 550 ملین ڈالر ہو گئی۔
حکومتی اعدادوشمار کے مطابق ٹیکس وصولی مقررہ سہ ماہی ہدف سے بھی تجاوز کر گئی لیکن اس اضافے کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ عوام سے وصول کیے جانے والے بھاری ٹیکسوں کے بدلے انہیں معیاری صحت، تعلیم، سستی بجلی، بہتر سفری سہولیات اور بنیادی ضروریات میں ریلیف کس حد تک فراہم کیا جا رہا ہے۔
حکومت کے مطابق مرکزی حکومت کا مجموعی قرض جون 2026 کے مقابلے میں 714 ارب روپے کم ہو کر 86 ٹریلین روپے رہ گیا جبکہ ملکی قرض میں بھی 684 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ دوسری جانب ڈیجیٹل ادائیگیوں، نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن اور سرمایہ کاری میں اضافے کو بھی معاشی بہتری کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
معاشی اشاریوں میں بہتری اور عام آدمی کے معیارِ زندگی میں بہتری دو الگ پہلو ہیں۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کہاں خرچ ہو رہی ہے، سرکاری اخراجات میں کتنی شفافیت ہے اور معاشی ترقی کے فوائد عام شہری تک پہنچانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
معاشی استحکام کے حکومتی دعوے اسی وقت عوام کے لیے حقیقی معنی اختیار کریں گے جب ٹیکسوں کے بوجھ کے ساتھ انہیں بنیادی سہولیات، روزگار کے بہتر مواقع اور مہنگائی سے حقیقی ریلیف بھی میسر آئے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








