شام: عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنا دی

تازہ ترین

تازہ ترین

بشار الاسد
(فوٹو: آج نیوز)

شامی عدالت نے ملک کے مفرور سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنا دی ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق معزول شامی صدر کو یہ سزا ان کی غیرموجودگی میں سنائی گئی، جبکہ مقدمے میں ان پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق شامی عدالت نے بشار الاسد کے دور میں سکیورٹی عہدیدار رہنے والے اور ان کے کزن عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی۔ سزا سنائے جانے کے وقت عاطف نجیب عدالت میں موجود تھے اور انہوں نے ملزمان کے لیے مختص لباس پہن رکھا تھا۔

شامی عدالت کے مطابق بشار الاسد کو قتل کی پیشگی منصوبہ بندی اور جان بوجھ کر قتل کے الزامات ثابت ہونے پر سزائے موت دی گئی۔ عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ ان کی عدم موجودگی میں سنایا گیا، کیونکہ سابق صدر ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔

خیال رہے کہ بشار الاسد شام کے سابق صدر اور فوجی افسر رہ چکے ہیں، جبکہ پیشے کے اعتبار سے وہ آنکھوں کے ڈاکٹر ہیں اور انہوں نے لندن میں طبی تربیت حاصل کی۔ اپنے والد حافظ الاسد کی وفات کے بعد انہوں نے شام کے صدر کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا اور جولائی 2000 سے دسمبر 2024 تک شام کے صدر رہے۔

دسمبر 2024 میں باغیوں نے دارالحکومت دمشق پر قبضہ کر کے بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ کر دیا، جس کے بعد وہ روس فرار ہوگئے۔ ان کے اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ہی شام میں ان کے خاندان کی نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط حکمرانی بھی ختم ہوگئی۔

Related Posts