مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے! پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع

تازہ ترین

تازہ ترین

Fazlur Rehman warns of nationwide protests over Madrassa Registration bill's delay
FILE PHOTO

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے افواج پاکستان کے خلاف حالیہ بیان نے ملک بھر کے سیاسی حلقوں میں ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ جے یو آئی سربراہ کے اس موقف کے خلاف جہاں ملک بھر کے سیاستدانوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے وہیں اب یہ معاملہ ایوانِ اقتدار تک پہنچ گیا ہے اور پنجاب اسمبلی میں ان کے خلاف ایک سخت مذمتی قرارداد جمع کروا دی گئی ہے۔

پنجاب اسمبلی میں جے یو آئی سربراہ کے خلاف بڑا اقدام

اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے پاک فوج کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے اور اشتعال انگیز بیانیے پر ملک بھر کی سیاسی قیادت سراپا احتجاج ہے۔ اس شدید عوامی اور سیاسی ردعمل کے بعد اب پنجاب اسمبلی میں بھی جے یو آئی سربراہ کے خلاف باقاعدہ طور پر ایک قرارداد پیش کر دی گئی ہے جس میں ان کے موقف پر سخت گرفت کی گئی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف یہ اقدام استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کی جانب سے اٹھایا گیا ہے جس نے پنجاب اسمبلی میں یہ قرارداد جمع کرائی۔ قرارداد کے متن میں واضح کیا گیا ہے کہ جے یو آئی کے سربراہ کی جانب سے ریاستی اداروں کے خلاف دیے جانے والے اشتعال انگیز بیانات کسی بھی طور پر قومی مفاد کے مطابق نہیں ہیں بلکہ یہ قومی مفادات کے یکسر منافی ہیں۔

پنجاب اسمبلی میں پیش کی جانے والی اس قرارداد میں جے یو آئی سربراہ کے طرزِ عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے ملک کی سلامتی کے ضامن ادارے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور تنقید کا نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک امر ہے۔ متن میں مزید متنبہ کیا گیا ہے کہ قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف اس طرح کا منفی بیانیہ اور پروپیگنڈا صرف اور صرف ملک دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

مذکورہ قرارداد کے ذریعے پنجاب اسمبلی سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ قومی اداروں کے وقار اور ساکھ کو سرِعام مجروح کرنے والے عناصر کو کسی صورت معاف نہ کیا جائے۔ آئی پی پی کی اس قرارداد میں زور دیا گیا ہے کہ ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے والوں کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

Related Posts