ایک قتل، تین بیانات اور کئی راز! جانیں حنا جاوید قتل کیس کے ملزم کے خوفناک انکشافات

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

راولپنڈی کے علاقے لال کڑتی کے عسکری اپارٹمنٹس میں حنا جاوید کے مبینہ قتل کیس کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس کے مطابق گھریلو ملازم ملزم ذیشان نے دورانِ تفتیش تین مختلف بیانات دئیے جن میں قتل کے واقعے سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

گھریلو جھگڑے کے دوران حنا جاوید کو قتل کرنے کا انکشاف

پولیس تفتیش کے مطابق ملازم ذیشان نے بتایا کہ حنا جاوید اور اس کے شوہر فیصل اصغر امام کے درمیان گھریلو جھگڑا ہوا۔ اسی دوران ذیشان کو بلایا گیا، حنا جاوید نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن اسے پکڑ لیا گیا اور مزاحمت کے بعد مبینہ طور پر گلا دبا کر قتل کردیا گیا۔

ملازم نے تین مختلف بیانات کیوں دئیے؟

ذرائع کے مطابق ذیشان نے حراست میں لیے جانے کے بعد پہلا بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نے فیصل امام کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کے تحت حنا جاوید کو قتل کیا۔ دوسرے بیان میں اس نے قتل اکیلے کرنے کا موقف اپنایا جبکہ تیسرے بیان میں کہا کہ میاں بیوی کے جھگڑے کے دوران اسے بلایا گیا اور اس نے فیصل امام کی مدد کی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ باقاعدہ تفتیش کے دوران ذیشان کے بیانات میں تبدیلیاں سامنے آئیں جس کے بعد تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات جاری ہیں۔

قتل کے بعد لاش کو باتھ روم کیوں لے جایا گیا؟

تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ واقعے کے بعد لاش کو باتھ روم میں شاور کے ساتھ تار سے لٹکانے اور واقعے کو مبینہ خودکشی کا رنگ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ نامعلوم افراد کے گھر میں داخل ہونے کا موقف اختیار کرنے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔

ملازم پر چوری کا بھی شبہ

پولیس کے مطابق ذیشان مقتولہ اور اس کے اہل خانہ کے پورشن کے ایک حصے میں سوتا تھا۔ تفتیش میں یہ الزام بھی سامنے آیا کہ وہ مبینہ طور پر حنا جاوید کے پرس اور گھر میں موجود نقد رقم چوری کرتا رہتا تھا۔

پولیس اس پہلو کی بھی تحقیقات کررہی ہے کہ کہیں حنا جاوید نے ملازم کو رقم چوری کرتے ہوئے دیکھ تو نہیں لیا تھا اور چوری پکڑے جانے کے خوف سے اسے مبینہ طور پر قتل کیا گیا۔

پولیس کے سامنے ایک اہم سوال

تفتیشی حکام کے مطابق ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر حنا جاوید کو ایک ہی شخص نے قتل کیا تو لاش کو باتھ روم منتقل کرکے شاور کے ساتھ لٹکانا کس طرح ممکن ہوا۔ اسی وجہ سے پولیس کسی ایک امکان کو حتمی قرار دینے کے بجائے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔

چوروں کے داخل ہونے کا دعویٰ بھی سامنے آیا تھا

واقعے کے بعد پولیس کو مقتولہ کے سسر کی جانب سے اطلاع دی گئی تھی کہ گھر میں چور داخل ہوئے ہیں۔پولیس موقع پر پہنچی تو حنا جاوید کی لاش باتھ روم میں شاور سے بندھی ہوئی ملی۔

گھر کے مکینوں نے ابتدائی طور پر پولیس کو بتایا تھا کہ ممکنہ طور پر گھر میں داخل ہونے والے افراد نے یہ کارروائی کی اور دیگر افراد کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں بھی دی تھیں تاہم پولیس کو تاحال اس دعوے کی تصدیق کرنے والے شواہد نہیں ملے۔

شوہر اور ملازم پولیس کی حراست میں

حنا جاوید کے قتل کا مقدمہ اس کے بھائی فہد کی مدعیت میں شوہر فیصل اصغر امام، سسر اصغر امام اور گھریلو ملازم ذیشان کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق شوہر اور ملازم تین روزہ ریمانڈ پر زیرِ تفتیش ہیں۔

اعلیٰ سطحی تفتیشی ٹیم تشکیل

سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا نے کیس کی تحقیقات کے لیے ایس ایس پی انویسٹی گیشن سیف اللہ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی پولیس تفتیشی ٹیم تشکیل دے رکھی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جارہا ہے۔

Related Posts