میر رضا کی لاش کو تیزاب سے نہلایا گیا، وکیل جبران ناصر کا سنگین دعوی

تازہ ترین

تازہ ترین

میر رضا قتل کیس میں وکیل جبران ناصر نے پریس کانفرنس کے دوران کئی سنگین دعوے کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقتول کی لاش کو تیزاب سے خراب کیا گیا، جبکہ خدشہ ہے کہ اسے تیزاب پلایا بھی گیا ہو۔

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ دستیاب معلومات کے مطابق میر رضا 28 جولائی کی شام تک زندہ تھا اور مبینہ طور پر قتل سے قبل اسے تقریباً 12 گھنٹے تک اغوا کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملزمان کو اس بات کا مکمل علم تھا کہ کہاں سی سی ٹی وی کیمرے موجود نہیں، میر رضا کو کہاں سے اٹھانا ہے اور لاش کو کہاں چھوڑنا ہے۔

وکیل نے سوال اٹھایا کہ یہ کیسے مان لیا جائے کہ میر رضا نے اپنے بینک اکاؤنٹس خود خالی کیے یا اس کا موبائل خود ہیک ہوگیا۔

جبران ناصر نے مزید کہا کہ میر رضا کے سوئم کے روز اس کی اسمارٹ واچ طلب کی گئی، جبکہ ان کے بقول ایک سینئر پولیس افسر آٹھ روز تک ایک اہم ثبوت اپنی تحویل میں رکھتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ مقدمے میں دفعہ 201 بھی شامل کی گئی، جو شواہد مٹانے یا چھپانے سے متعلق ہے۔

وکیل نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تفتیشی ٹیم میں ایک ایسے افسر کو شامل کیا گیا جو واقعے سے قبل کشمیر میں تعینات تھا اور اب تک واپس نہیں آیا، جس پر انہوں نے تفتیش کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے۔

جبران ناصر نے مطالبہ کیا کہ میر رضا کیس میں شواہد کو نظر انداز کرنے کے ذمہ دار متعلقہ پولیس افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے۔

Related Posts