لانگ مارچ ملتوی کیا جائے ورنہ! شوکت یوسفزئی کا بیرسٹر گوہر کو تہلکہ خیز خط

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر اہم نوعیت کی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے اعلیٰ قیادت کو ایک تحریری خط ارسال کیا ہے۔اس خط میں ملک کی موجودہ سیاسی و سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں مجوزہ لانگ مارچ فی الحال موخر کرنے کی پرزور سفارش کی گئی ہے۔

خط کے اہم نکات: بیرونی خطرات اور ملکی مفاد

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور دیگر سینیئر رہنماؤں کو لکھے گئے خط میں شوکت یوسفزئی نے موقف اختیار کیا ہے کہ ملکی مفاد اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ لانگ مارچ کو فوری طور پر ملتوی کر دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کو سنگین بیرونی خطرات کا سامنا ہے جبکہ دہشتگردی کی لہر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ایسے حساس حالات میں احتجاجی تحریک خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

ایمرجنسی نفاذ کا خدشہ اور حکومتی حکمت عملی

شوکت یوسفزئی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وفاقی حکومت مختلف امور کو بہانہ بنا کر ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے ارادے رکھتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ریاست کے ساتھ براہِ راست ٹکراؤ میں جانے کے بجائے بات چیت اور مذاکرات کی فضا کو بحال کیا جانا چاہیے۔ خط میں مزید یہ بھی انتباہ کیا گیا ہے کہ افغانستان کی طرف سے کسی بھی ممکنہ جارحیت کو ملک میں ایمرجنسی لگانے کے جواز کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

صوبائی حکومت کو ختم کرنے اور پابندی کا خطرہ

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ وفاقی انتظامیہ جان بوجھ کر خیبرپختونخوا حکومت کے خلاف عدم تعاون کا بیانیہ تراش رہی ہے اور اس بنے ہوئے ماحول میں صوبائی حکومت کو گھر بھیجنے (برطرف کرنے) کی کوششیں بھی کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ پارٹی پر دہشتگردی کی پشت پناہی کا الزام عائد کر کے اس پر پابندی عائد کرنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

خط کے آخر میں یہ حوالہ بھی دیا گیا کہ بانی چیئرمین عمران خان نے بھی ماضی میں اپنے کارکنوں کی جانوں کے تحفظ کو ترجیح دیتے ہوئے لانگ مارچ کو سمیٹ لیا تھا اس لیے ان کی ان گزارشات کو مکمل سنجیدگی کے ساتھ زیرِ غور لایا جائے۔

Related Posts