لاہور اور فیصل آباد 2050 تک ناقابلِ برداشت گرمی کی لپیٹ میں؟ حقیقت سامنے آ گئی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس، فیس بک اور انسٹاگرام پر متعدد مقامی ڈیجیٹل پیجز یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ لاہور اور فیصل آباد سن 2050 تک دنیا کے گرم ترین شہروں میں شمار ہوں گے۔ یہ دعویٰ مختلف پوسٹس اور گرافکس کے ذریعے وسیع پیمانے پر پھیلایا گیا جس سے عوام میں تشویش پیدا ہوئی۔

دعویٰ

سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا کہ لاہور اور فیصل آباد کو 2050 تک دنیا کے سب سے زیادہ گرم شہروں میں شامل ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

پس منظر

7 جون 2026 کو پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے ایک موسمیاتی ایڈوائزری جاری کی جس میں خبردار کیا گیا کہ ملک 12 جون تک شدید گرمی کی لہر کی زد میں رہے گا۔ محکمہ کے مطابق درجہ حرارت معمول سے سات ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ رہ سکتا ہے جبکہ فضائی بالائی سطح پر ایک مضبوط ہائی پریشر سسٹم کے بننے اور برقرار رہنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا۔

محکمہ موسمیات نے یہ بھی کہا کہ رات کے وقت درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ جنوبی پنجاب اور سندھ کے بعض علاقوں میں گرد آلود ہوائیں اور طوفان آنے کا امکان موجود ہے۔ ادارے نے بالخصوص بچوں، خواتین اور بزرگ شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔

اسی دوران متعدد سوشل میڈیا پوسٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ لاہور اور فیصل آباد مستقبل میں دنیا کے گرم ترین شہروں کی فہرست میں شامل ہو جائیں گے۔ ان پوسٹس کے ساتھ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ تصاویر بھی شیئر کی گئیں جن میں درجہ حرارت کو انتہائی خطرناک سطح تک پہنچتا ہوا دکھایا گیا۔

چند مقامی نیوز اداروں نے بھی اپنی ویب سائٹس پر اسی نوعیت کی رپورٹس شائع کیں تاہم ان تمام خبروں اور پوسٹس میں ایک مبہم کلائمیٹ اسٹڈی کا حوالہ تو دیا گیا لیکن نہ تو اس تحقیق کا نام بتایا گیا نہ اشاعت کی تاریخ اور نہ ہی اصل رپورٹ کا لنک فراہم کیا گیا۔

تحقیقات میں کیا سامنے آیا؟

اس دعوے کی تصدیق کے لیے مختلف کلیدی الفاظ کے ذریعے تلاش کی گئی لیکن کسی معتبر پاکستانی یا بین الاقوامی میڈیا ادارے میں ایسی کوئی رپورٹ نہیں ملی جس میں لاہور یا فیصل آباد کو 2050 تک دنیا کے گرم ترین شہروں میں شامل قرار دیا گیا ہو۔

اسی طرح ان خبروں میں جس تحقیق کا حوالہ دیا گیا تھا، اس سے متعلق بھی کوئی سائنسی تحقیقی یا جائزہ شدہ (Peer-reviewed) رپورٹ دستیاب نہیں ہو سکی۔

البتہ تحقیق کے دوران مارچ 2026 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ سامنے آئی جسے شکاگو یونیورسٹی کے کلائمیٹ امپیکٹ لیب نے تیار کیا تھا۔ اس رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ 2050 تک پاکستان میں گرمی سے متعلق اموات کی شرح میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور ہر ایک لاکھ افراد میں اوسطاً 51 اضافی اموات واقع ہونے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق فیصل آباد، لاہور، ملتان، گوجرانوالہ، پشاور، حیدرآباد، راولپنڈی اور اسلام آباد دنیا کے ان شہروں میں شامل ہیں جو شدید گرمی کے اثرات کے حوالے سے سب سے زیادہ خطرے کا سامنا کر سکتے ہیں۔

اس تحقیق کو مارچ 2026 میں مختلف بین الاقوامی اداروں اور ذرائع ابلاغ نے بھی نمایاں طور پر رپورٹ کیا۔

اصل تحقیق کس بارے میں تھی؟

اہم نکتہ یہ ہے کہ مذکورہ تحقیق درجہ حرارت کی بنیاد پر شہروں کی درجہ بندی نہیں کرتی بلکہ گرمی سے ہونے والی اموات کے خطرات کا اندازہ لگاتی ہے۔

رپورٹ کے خلاصے میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں اموات پر اثرات کو سمجھنے کے لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ دنیا کے کون سے علاقے سب سے زیادہ گرم ہوں گے۔

تحقیق میں 2050 کے لیے گرمی سے منسلک اموات کی متوقع شرح کا موازنہ 2001 سے 2010 کے اوسط اعداد و شمار سے کیا گیا۔ اس جائزے میں آمدنی کی سطح، ٹھنڈک کی سہولیات تک رسائی، موسمی حالات سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت اور موجودہ گرمی کی شدت جیسے عوامل کو مدنظر رکھا گیا، نہ کہ صرف درجہ حرارت کی بلند ترین سطح کو۔

پاکستانی شہروں کی درجہ بندی

تحقیق کے مطابق کم اور کم متوسط آمدنی والے ممالک کے شہروں میں فیصل آباد ان شہروں میں شامل ہے جہاں 2050 تک ہر ایک لاکھ افراد میں 81 اضافی اموات متوقع ہیں۔

ملتان 72 اضافی اموات کے تخمینے کے ساتھ دوسرے نمبر پر، گوجرانوالہ 67 اضافی اموات کے ساتھ تیسرے جبکہ لاہور 55 اضافی اموات کے ساتھ چوتھے نمبر پر رکھا گیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ دنیا بھر کے 301 شہروں میں گرمی کے باعث متوقع ایک لاکھ سے زائد اضافی سالانہ اموات میں سے تقریباً ایک تہائی صرف پاکستانی شہروں میں ہو سکتی ہیں۔

ملکی سطح پر پاکستان کو گرمی سے متعلق اموات میں اضافے کے اعتبار سے دنیا کا چوتھا سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار دیا گیا جبکہ نائیجر، برکینا فاسو اور جبوتی اس فہرست میں پاکستان سے اوپر ہیں۔

ماہرین کی رائے

موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے امور کی ماہر فاطمہ یامین نے بھی وضاحت کی کہ کلائمیٹ امپیکٹ لیب کی یہ تحقیق دنیا بھر میں گرمی سے ہونے والی اموات کے تخمینے سے متعلق تھی اور ممالک و شہروں کی درجہ بندی بھی اسی بنیاد پر کی گئی تھی۔

ان کے مطابق پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل رہا ہے اسی تناظر میں یہ تخمینے مرتب کیے گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ رپورٹ بنیادی طور پر پاکستان میں گرمی سے منسلک اموات میں اضافے کی پیش گوئی کرتی ہے نہ کہ یہ بتاتی ہے کہ پاکستانی شہر دنیا کے گرم ترین شہر بن جائیں گے۔

نتیجہ

یہ دعویٰ کہ لاہور اور فیصل آباد 2050 تک دنیا کے گرم ترین شہروں میں شامل ہوں گے گمراہ کن ہے۔

اصل تحقیق درجہ حرارت کی درجہ بندی سے متعلق نہیں تھی بلکہ اس کا تعلق گرمی کے باعث اموات اور انسانی جانوں کو لاحق خطرات سے تھا۔ اگرچہ پاکستانی شہروں کو موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا ہو سکتا ہے اور گرمی سے متعلق اموات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے لیکن اس بنیاد پر انہیں دنیا کے گرم ترین شہروں میں شمار کرنا درست نہیں۔

شواہد اور حوالہ جات

25 مارچ 2026 کی Dawn رپورٹ

https://www.dawn.com/news/1985198/pakistans-cities-to-account-for-most-heat-related-deaths-by-2050

25 مارچ 2026 کی Time رپورٹ

https://time.com/article/2026/03/24/climate-heat-deaths-poor-nations-research/

مارچ 2026 کی Climate Impact Lab رپورٹ

https://impactlab.org/wp-content/uploads/2026/03/CIL_MortalityReport_2026.pdf

Related Posts