کراچی پولیس نے ڈنڈا اٹھالیا، 8 بجے کے بعد گھر سے غیرضروری نکلنے والوں کو جیل بھیجا جائے گا

lockdown in Karachi

کراچی:حکومت سندھ کے لاک ڈاؤن کے حکم کے بعد پولیس نے فیصلے پر بھرپور عمل درآمد کرانے کے لیے حکمت عملی تیار کرلی۔

کراچی پولیس حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ حکومتی ہدایات پرعمل کریں بصورت دیگرشہر میں رات 8 بجے کے بعد گھر سے غیرضروری نکلنے والوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں کی جائے گی اور ان کے خلاف کارروائی ہوگی ۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ناکوں پر غیرضروری نکلنے والوں کو روکا جائے گا۔کراچی میں مارکیٹوں، ہوٹل اور پارکس کے اطراف پولیس گشت ہوگا،

شاہراہ فیصل ،شاہراہ قائدین،ناگن چورنگی سمیت دیگر اہم شاہراؤں پر پولیس کی جانب سے ناکے لگائے جائینگے جہاں شہریوں سے پوچھ گچھ کی جائے گی اگر کسی ایمرجنسی میں مریض کو لے جایا جائےگا تو گاڑی میں صرف 3 افراد کو گاڑی میں بیٹھنے کی اجازت ہو گی۔

ایمرجنسی میں نکلنے والے شہریوں کو اپنے ساتھ اصل قومی شناختی کارڈ ررکھنا لازمی ہے، گاڑی میں سفر کرنے والے افراد کو ماسک کے بغیر نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔

غیر ضروری طور پرگھرسے نکلنے والے شہریوں کو ایک دفعہ وارننگ دی جائے گی اوراس کے بعد قانونی کارروائی کی جائے گی۔

شہریوں کی شناختی کارڈ کے ذریعے پولیس اہلکار انٹری بھی کریں گے ،انکا ریکارڈ بھی رکھا جائے گا، پولیس افسران اپنے اضلاع میں موجود ہونگے اور اپنے علاقوں کا دورہ کریں گے۔

گھر سے باہر نکلنے پر پابندی
سندھ حکومت نے کورونا ایس او پیز کے تحت لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں اضافے کا فیصلہ کر لیا، کراچی میں رات 8 بجے کے بعد شہریوں کو بلا ضرورت باہر گھومنے کی اجازت نہیں ہوگی۔وزیرِ اعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت کورونا ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا جس میں کورونا ایس او پیز کے تحت کراچی پر عائد پابندیاں مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

کورونا ایس او پیز کے تحت فیصلہ کیا گیا کہ کل سے رات 8 بجے کے بعد کراچی میں شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھومنے پھرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ وزیرِ اعلیٰ نے ہدایت کی کہ گاڑیوں میں بھی لوگوں کو غیر ضروری طور پر گھومنے سے روکا جائے۔

سندھ ٹاسک فورس اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر کسی کو ہسپتال یا کسی ہنگامی ضرورت کے باعث کام سے نکلنا ہو تو اسے اجازت دے دی جائے۔ سندھ بھر کے پارکس میں مغرب کے بعد لائٹس بند کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔

ٹاسک فورس اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ رات 8 بجے کے بعد ٖغیر ضروری طور پر باہر نکلنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ آئی جی سندھ پولیس کو بلاضرورت گھومنے والوں کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کردئیے گئے۔

دورانِ اجلاس وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ کہ پولیس گاڑیوں میں بلاضرورت گھومنے والوں کو روکے۔اگر عوام نے تعاون کیا تو 2 ہفتوں میں کورونا کیسز کم ہوجائیں گے، اگر ایسا کیا گیا تو پابندیاں نرم کرنے کی طرف بھی جاسکتے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن سے متعلق پابندیاں مزید سخت کردیں۔ محکمۂ داخلہ سندھ کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ نرسری سے لے کر یونیورسٹی تک تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

سندھ حکومت نے شادی ہالز، سینما اور تمام تفریحی مقامات کو بند رکھنے کا اعلان کردیا تاہم میڈیکل اسٹورز، گروسری کی دکانیں اور پیٹرول پمپس کھلے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ شاپنگ ماز کے اندر والے میڈیکل اسٹورز پر بھی پابندی عائد کی گئی۔