ڈرامہ سیریل ‘ہم تم’، کیامعاشرے کی سوچ کو چیلنج کررہا ہے؟

ڈرامہ سیریل 'ہم تم'، کیامعاشرے کی سوچ کو چیلنج کررہا ہے؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں اس سال جو رمضان اسپیشل ڈرامے دکھائے جارہے ہیں اُن میں ‘ہم تم’ کافی الگ ہے لیکن اس ڈرامے میں بہت سے ایسے موضوعات ہیں جو کہ معاشرے کو چیلنج کررہے ہیں۔

صرف یہی ڈرامہ نہیں بلکہ پاکستان کے اکثر ڈراموں میں یہی دکھایا جاتا ہے کہ جو لڑکیاں پڑھائی میں اچھی ہوتی ہیں وہ گھریلو کاموں میں بالکل صفر ہوتی ہیں، اُن کے اندر بالکل بھی سلیقہ نہیں ہوتا۔

ڈرامے میں قطب الدین بہنوں کی تصویر کشی

ڈرامہ سیریل ‘ہم تم’ کی اب تک 10 اقساط نشر ہوچکی ہیں جس سے یہ اندازہ ہوا ہے کہ تینوں بہنیں یعنی کہ ماہا، نیہا اور ساشا بلا کی ذہین و فطین لڑکیاں ہیں۔

لیکن ان بہنوں میں ایک سب سے بڑی کمی ہے کہ وہ گھریلو کاموں میں بالکل صفر ہیں یہی وجہ ہے کہ اکثراوقات اُن کے والد پروفیسر قطب الدین بیٹیوں کے حوالے سے پریشان نظر آتے ہیں۔

معاشرے پر اس تصویر کشی کے اثرات

میڈیا انسان کے ذہنوں پر بہت جلدی اثر کرتا ہے، اس میں ایسی صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ وہ انسان کا ذہن بالکل تبدیل کردیتی ہے۔

خاص طور پر خواتین پر تو میڈیا بہت جلدی اثر کرتا ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ مغرب اس تناظر سے کافی حد تک نکل چکا ہے لیکن پاکستانی میڈیا آج بھی وہیں کھڑا ہے ہمارے ڈراموں میں خواتین کے کردار کو الگ دکھانے کے چکر میں معاشرے کی سوچ کو غلط رخ پر ڈالا جارہا ہے۔

ڈرامہ سیریل ‘ہم تم’ میں بھی یہی دکھایا جارہا ہے کہ ایک لڑکی پڑھائی میں تو بہت آگے ہے لیکن ساتھ ہی اُس کو گھر کے کاموں میں بالکل دلچسپی نہیں ہے۔

 خواتین اور ماشرہ

ہمارے معاشرے میں عام طور پر جب بھی خواتین کا ذکر ہوتا ہے تو یہی تصویر آتی ہے کہ ایک خوش شکل سی خاتون جو کہ گھریلو کاموں میں بھی بالکل طاق ہے۔

خواتین کے حوالے سے یہ دقیانوسی سوچ صدیوں سے چلی آرہی ہے لہٰذا ایمانداری سے اگر کوئی خواتین کو اس ترازو میں پرکھتا ہے تو اُس پرالزام لگانا غلط ہوگا۔

میڈیا پر دکھائی جانے والی خواتین

خیال رہے کہ اچھی خاتون کو ہمیشہ ہمارے میڈیا میں گول روٹی، کپڑے دھوتے، سلائی کرتے اور بچوں کی پرورش کرتے دکھایا جاتا ہے جبکہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون کو میڈیا میں ہمیشہ بے باک، چالاک اور بدتمیز دکھایا جاتا ہے اور یہی وہ چیز ہے جو معاشرے کے لوگوں کے اندر غلط سوچ پیدا کررہی ہے۔

میڈیا سے معاشرے میں یہ سوچ پیدا ہورہی ہے کہ جو خاتون گول روٹی بناتی ہے وہ اچھی خاتون ہے جبکہ جو خاتون اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے وہ ایک بداخلاق خاتون ہے۔

گھریلو کاموں میں صنفی مساوات

زیادہ تر ہمارے معاشرے میں یہی دیکھا جاتا ہے کہ ہم کاموں کو صنف کے ساتھ جوڑدیتے ہیں، گھر کے کام اور صفائی ستھرائی کو صرف خواتین کیلئے ہی مخصوص کردیا جاتا ہے جبکہ یہ غلط ہے کیونکہ صفائی ستھرائی اور گھریلو کام کبھی بھی صنف کی بنیاد پر نہیں ہوتے۔

میڈیا کا کردار

معاشرے میں موجود لوگوں کی سوچ بدلنے میں پاکستانی میڈیا ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے، میڈیا کو ایسا مواد دکھانا چاہیے کہ جس میں خواتین اپنے اپنے عہدوں کے اندر ماہر ہوں۔

آخر بات یہ کہ میڈیا کو خواتین کے ایسے کردار دکھانے چاہئیں جو کہ صرف پڑھائی میں ہی اچھی نہیں ہوں بلکہ گھریلو کاموں میں بھی طاق ہوں اور اگر وہ نہ ہوں تو انہیں اس بات پر طعنے نہیں دینے چاہئیں۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں