جعلی رپورٹس پر مضر صحت چھالیہ کلیئر کیے جانے کا انکشاف

جعلی رپورٹس پر مضر صحت چھالیہ کلیئر کیئے جانے کا انکشاف

کراچی : مضر صحت چھالیہ کی پورٹ سے کلیئرنس کے لئے لیبارٹری کی جعلی رپورٹس استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مضرِ صحت چھالیہ تیاری کی پورٹ سے فیکٹری تک منتقلی میں کسٹم اور پولیس کے اعلیٰ افسران کو مبینہ طور پر بھاری رشوت دی جارہی ہے، ایسا بتایا جارہا ہے کہ فیکٹری مالکان پورٹ سے چھالیہ کی کلیئرنس کے لئے ایک کسٹم ایجنٹ سے رابطے میں ہیں۔

کراچی کے تین بڑے صنعتی علاقوں میں قائم فیکٹریوں میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران سی پورٹ سے مضر صحت چھالیہ کی کنسائمنٹس کلیئر ہونے کے بعد منتقل ہوئی ہیں۔ اس کنسائمنٹ کی کلیئرنس کے لئے پی سی ایس آئی آر کی جعلی رپورٹس تیار کرکے ڈیوٹی کی ادائیگی کے بعد پورٹ سے نکالا جارہا ہے، جس کے لئے تمام فیکٹری مالکان ایک نورانی نامی ایجنٹ کی خدمات لے رہے ہیں جس کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ایجنٹ کو مبینہ طور پر ایف بی آر ہیڈکواٹر میں تعینات کسٹم افسران کی آشیرباد حاصل ہے اور کراچی میں موجود بڑے فیکٹری مالکان حنیف، طاہر، عمران، عارف سمیت دیگر اپنی کنسائمنٹ کو اسی ایجنٹ کے ذریعے سے کلیئر کرواتے ہیں ۔

واضح رہے کہ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ اور سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں مضر صحت چھالیہ کی درآمد پر پاکستان میں مکمل پابندی عائد ہے اور صرف ایسی کنسائمنٹ کی کلیئرنس ممکن ہے جو بیرون ملک سے کنٹینر پر ہیلتھ سرٹیفیکٹ کے ساتھ سی پورٹ پر آئے اور سی پورٹ پر پی سی ایس آئی آر بھی اس کے ٹیسٹ کرنے کے بعد اگر چھالیہ کو مضر صحت قرار نہ دے تو اس کی پورٹ سے کلیئرنس ممکن ہوسکتی ہے۔

تاہم، کسٹم افسران کا کہنا ہے کہ چھالیہ کسی بھی ملک سے پاکستان آئے تو اس کے سفر کے دوران اور کلیئرنس میں 20 سے 40 دن تک لگ جاتے ہیں اور اس طرح سی پورٹ پر پہچنے والی چھالیہ استعمال کے قابل نہیں رہتی ہے اس وجہ سے چھالیہ کی کلیئرنس نہیں ہو سکتی ہے لیکن حالیہ دنوں میں ان ہی کنٹینرز کو زیادہ تر پی سی ایس آئی آر کی جعلی رپورٹس پر کلیئر کیا جارہا ہے، جس کے لئے کسٹم پریوینٹیو اور ڈائریکٹوریٹ آف کسٹم انٹیلی جنس کراچی میں تعینات افسران کو مبینہ طور پر ماہانہ بھاری رشوت دی جارہی ہے۔

پورٹ سے فیکٹری منتقل ہونے کے بعد سائٹ ایریا، ایف بی اندسٹریل ایریا، نارتھ کراچی اور لانڈھی، کورنگی میں تعینات پولیس کے اعلیٰ افسران کو فیکٹری میں چھالیہ کی تیاری اور بازار میں فروخت کرنے کے لئے مبینہ طور پر رشوت کی فراہمی کے لئے ایک ہی ایجنٹ متحرک ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مضر صحت چھالیہ کی کلیئرنس میں ملوث ایجنٹ اور فیکٹری مالکان کا یہ نیٹ ورک کسٹم اور پولیس کے اعلیٰ افسران سے براہ راست رابطے میں ہیں ۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں