خواتین کی جعلی برہنہ تصاویر بنا کر بلیک میل کرتا تھا! رحیم یار خان سے ملزم گرفتار

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

سوشل میڈیا پر خواتین کی عزت اور نجی زندگی کو نشانہ بنانے والے مبینہ سائبر بلیک میلر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے این سی سی آئی اے نے ایک شخص کو گرفتار کرلیا۔ ملزم پر الزام ہے کہ وہ خواتین کی ذاتی معلومات اور جعلی قابلِ اعتراض تصاویر کے ذریعے انہیں خوفزدہ کرتا اور رقم کا مطالبہ کرتا تھا۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے مطابق پنجاب کے ڈائریکٹر محمد علی وسیم کی ہدایت پر کارروائی کرتے ہوئے محمد سلمان نامی ملزم کو رحیم یار خان سے حراست میں لیا گیا۔ تفتیش میں سامنے آیا کہ ملزم نے بیرون ملک ملازمت کے دوران مبینہ طور پر خواتین کے نجی ڈیٹا اور تصاویر تک غیر مجاز رسائی حاصل کی۔

حکام کے مطابق پاکستان واپس آنے کے بعد ملزم نے غیر ملکی خواتین کی تصاویر میں مبینہ طور پر ردوبدل کرکے انہیں بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا۔ الزام ہے کہ وہ متاثرہ خواتین سے رقم مانگتا اور انکار کی صورت میں تصاویر اور ذاتی معلومات سوشل میڈیا پر نشر کرنے کی دھمکیاں دیتا تھا۔

این سی سی آئی اے کے مطابق ملزم مبینہ طور پر متاثرہ خواتین کو یہ دھمکی بھی دیتا تھا کہ اگر اس کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ مذکورہ مواد ان کے اہلخانہ کو بھی بھیج دے گا۔ شکایات موصول ہونے کے بعد این سی سی آئی اے لاہور ٹیم نے مقدمہ درج کیا جبکہ ملزم کے موبائل فون سے نجی اور قابلِ اعتراض مواد بھی برآمد کیا گیا۔

حکام کے مطابق ملزم کی گرفتاری آن لائن ہراسانی اور مبینہ بلیک میلنگ سے متعلق شکایات کے بعد عمل میں آئی۔ تفتیشی ٹیم نے ملزم کے زیر استعمال ڈیجیٹل آلات کا فرانزک معائنہ بھی شروع کردیا ہے جس کے نتیجے میں دیگر متاثرہ خواتین اور مزید شواہد سامنے آنے کی توقع ہے۔

این سی سی آئی اے نے آن لائن بلیک میلنگ کا سامنا کرنے والے افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملزمان کے دباؤ میں آکر رقم ادا کرنے کے بجائے فوری طور پر متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔ ڈائریکٹر محمد علی وسیم کا کہنا ہے کہ سائبر بلیک میلنگ اور آن لائن ہراسانی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔

Related Posts