پاکستان مصنوعی ذہانت اے آئی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث روزگار کے حوالے سے سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔ عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اے آئی سے پیدا ہونے والی تبدیلیاں پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے روزگار، معیشت اور مسابقت کے میدان میں بڑے چیلنجز پیدا کر سکتی ہیں۔ دوسری جانب امریکا کی پانچ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں صرف رواں سال اے آئی انفراسٹرکچر پر 775 ارب ڈالر خرچ کرنے جا رہی ہیں جو پاکستان کی مجموعی 408 ارب ڈالر کی معیشت سے تقریباً دوگنا ہے۔
عالمی بینک کی ورلڈ ڈیولپمنٹ رپورٹ 2026 کے مطابق پاکستان میں نوجوانوں کی بے روزگاری پہلے ہی تشویشناک سطح پر ہے جبکہ نجی شعبہ بھی مطلوبہ رفتار سے نئی ملازمتیں پیدا نہیں کر پا رہا۔ ہر سال اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کی تلاش میں مارکیٹ میں آتے ہیں، لیکن معیشت ان کے لیے مناسب مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اے آئی اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے اس لیے پاکستان کو فوری اور مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ الفابیٹ، ایمیزون، میٹا، مائیکروسافٹ اور اوریکل جیسی پانچ امریکی کمپنیاں 2026 کے دوران اے آئی انفراسٹرکچر پر مجموعی طور پر 775 ارب ڈالر خرچ کریں گی۔ یہ سرمایہ کاری نہ صرف پاکستان بلکہ ارجنٹائن، سنگاپور، تھائی لینڈ، متحدہ عرب امارات، ویتنام، فلپائن، ملائیشیا، بنگلہ دیش، کولمبیا، جنوبی افریقہ اور ایران کی پوری معیشت سے بھی زیادہ ہے۔ عالمی بینک کے مطابق اے آئی سرمایہ کاری کا یہی فرق مستقبل میں ممالک کی معاشی برتری یا پسماندگی کا تعین کرے گا جبکہ پاکستان اس دوڑ میں پیچھے رہتا دکھائی دے رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے خطے (MENAAP) میں ان ممالک میں شامل ہے جہاں اے آئی کی وجہ سے ملازمتوں کے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہے۔ خاص طور پر وہ شعبے جن میں تجزیہ، ڈیٹا پراسیسنگ، رپورٹ نویسی، قانونی تحقیق، طبی معاونت اور مالیاتی تجزیہ جیسے علمی نوعیت کے کام شامل ہیں اے آئی کی بدولت تیزی سے خودکار ہوتے جا رہے ہیں۔ یہی شعبے اب تک تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے باقاعدہ روزگار کا اہم ذریعہ سمجھے جاتے تھے۔
عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نئی ملازمتوں کی تخلیق، افرادی قوت کی نئی مہارتوں کی تربیت اور ڈیجیٹل مسابقت بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسیاں نہ بنائے تو اے آئی کے باعث ہنرمند افراد کے لیے روزگار کے مواقع مزید محدود ہو جائیں گے۔ پاکستان پہلے ہی معیاری ملازمتوں کی کمی کا سامنا کر رہا ہے، ایسے میں AI کی وجہ سے علمی نوعیت کے روزگار میں کمی ایک اضافی نہیں بلکہ سنگین مسئلہ بن سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ ترقی یافتہ ممالک میں تقریباً 14.2 فیصد ملازمتیں AI سے خودکار ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں جبکہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں یہ شرح 4.5 فیصد ہے، لیکن یہ پاکستان کے لیے اطمینان کی بات نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر روزگار جسمانی محنت، غیر رسمی معیشت اور براہِ راست خدمات سے وابستہ ہے، نہ کہ اعلیٰ پیداواری صلاحیت رکھنے والے علمی شعبوں سے۔
عالمی بینک نے نشاندہی کی کہ ترقی پذیر ممالک میں 16.2 فیصد ملازمتوں کی کارکردگی اے آئی کے ذریعے بہتر بنائی جا سکتی ہے، جو ترقی یافتہ ممالک کی 18.7 فیصد شرح کے قریب ہے۔ رپورٹ کے مطابق اے آئی کا اصل فائدہ انسانوں کی جگہ لینا نہیں بلکہ ان کی کارکردگی بڑھانا ہے۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر اے آئی کی مدد سے زیادہ مریضوں کا بہتر علاج کر سکتے ہیں، کسان جدید اے آئی ٹیکنالوجی سے پیداوار میں اضافہ کر سکتے ہیں جبکہ سرکاری ادارے ٹیکس وصولی اور دیگر خدمات کو زیادہ مؤثر بنا سکتے ہیں۔
عالمی بینک کے چیف اکنامسٹ اندرمت گل کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو مہنگے اے آئی ماڈلز یا بڑے ڈیٹا سینٹرز بنانے کی ضرورت نہیں، بلکہ کم لاگت والے اے آئی ٹولز کو مقامی ضروریات کے مطابق ڈھال کر صحت، تعلیم، عدالتی نظام اور زراعت جیسے شعبوں میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ اس کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں کیونکہ اے آئی ماضی کی ٹیکنالوجیز کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے۔
رپورٹ میں ترقی پذیر ممالک کے لیے تین مراحل پر مشتمل حکمت عملی تجویز کی گئی ہے، جس میں پہلے دستیاب اے آئی ٹولز کو اپنانا، پھر انہیں مقامی حالات کے مطابق ڈھالنا اور بعد ازاں جدید اے آئی صلاحیتوں کی طرف پیش رفت کرنا شامل ہے۔ عالمی بینک کے مطابق بنیادی ڈھانچہ مضبوط کیے بغیر جدید اے آئی تیار کرنے کی کوشش وسائل کا ضیاع ثابت ہوگی، جبکہ موجودہ ٹیکنالوجی سے فائدہ نہ اٹھانے والے ممالک مزید پیچھے رہ جائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق اے آئی سے حقیقی فائدہ حاصل کرنے کیلئے پاکستان کو بجلی، انٹرنیٹ، مہارتوں اور مضبوط ادارہ جاتی نظام پر فوری سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ ملک میں بجلی کی قلت، انٹرنیٹ کے غیر مساوی معیار اے آئی سے متعلق مہارتوں کی کمی اور سرکاری اداروں کی محدود استعداد اب بھی بڑے مسائل ہیں۔
عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان نے اے آئی سے متعلق بنیادی ڈھانچے اور افرادی قوت کی تیاری میں مزید تاخیر کی تو دیگر ممالک کی برتری مسلسل بڑھتی جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق آنے والے چند برسوں میں کیے جانے والے فیصلے یہ طے کریں گے کہ پاکستان اے آئی سے فائدہ اٹھانے والے ممالک میں شامل ہوگا یا اس دوڑ میں مزید پیچھے رہ جائے گا۔
رپورٹ کے اختتام پر عالمی بینک نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کو دوہرا چیلنج درپیش ہے۔ ایک طرف تعلیم یافتہ نوجوان اے آئی کے باعث روزگار کے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں جبکہ دوسری طرف ملک کے پاس اے آئی سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے مطلوبہ انفراسٹرکچر، مہارتیں اور ادارہ جاتی صلاحیت محدود ہے۔ عالمی بینک کے مطابق پاکستان نے اب تک اے آئی سے متعلق چند الگ الگ اقدامات ضرور کیے ہیں لیکن مستقبل کے تقاضوں کے مطابق مربوط، جامع اور فوری قومی حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








