حیدر آباد کے بعد سکھر میں بھی کھمبوں والی سڑک کا ظہور! وزیر اعلیٰ سندھ ہیں کہاں ؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

سندھ حکومت کے ترقیاتی دعووں کی ایک اور دردناک تصویر سکھر میں سامنے آگئی ہے جہاں انڈسٹری ایریا کو پرانے سکھر سے ملانے والی اہم سڑک کے عین درمیان کھڑے بجلی کے کھمبے گزشتہ ایک دہائی سے شہریوں کی زندگیاں نگل رہے ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر وزیراعلیٰ سندھ کو اب تک سندھ کی ان خستہ حال سڑکوں پر کھڑے یہ کھمبے نظر نہیں آئے۔

نجی ٹی وی چینل کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے علاقہ مکینوں نے شدید دکھ اور غصے کا اظہار کیا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ پچھلے دس سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے نہ تو سڑکوں کی حالت بہتر کی گئی اور نہ ہی ان کے درمیان رکاوٹ بنے ہوئے بجلی کے ان خطرناک کھمبے کو ہٹایا گیا۔

ایک مقامی شہری نے بتایا کہ سڑک کے بیچوں بیچ ان کھمبے کی موجودگی کی وجہ سے اب تک متعدد خوفناک ٹریفک حادثات پیش آ چکے ہیں جن میں دو معصوم افراد اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں مگر انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔

دوسری جانب جب اس معاملے پر میئر سکھر ارسلان شیخ سے مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے عجیب و غریب انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سڑک سے یہ کھمبے ہٹانے کے لیے پورے 5 سال پہلے ‘سیپکو’ (SEPCO) کو باقاعدہ فنڈز ادا کیے جا چکے ہیں، لیکن اب وہ مزید رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

عوام نے وزیر اعلیٰ سندھ اور صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ حیدرآباد کے بعد اب سکھر کے اس سنگین مسئلے پر بھی فوری نوٹس لیں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سڑک کو حادثات سے پاک بنائیں۔

Related Posts