سندھ میں تقریباً 18 سال سے برسر اقتدار پیپلز پارٹی کی حکومت کی گورننس اور ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی ایک بار پھر سوالات کی زد میں آگئی ہے۔ حیدرآباد میں بجلی کے کھمبے ہٹائے بغیر سڑک تعمیر کرنے کے معاملے پر سوشل میڈیا صارفین اور نیوز چینلز کی تنقید کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وضاحت تو پیش کی تاہم اپنی حکومت کی منصوبہ بندی میں ممکنہ کوتاہی تسلیم کرنے کے بجائے سارا معاملہ وفاقی ادارے حیسکو کی تاخیر پر ڈال دیا۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ حیدرآباد کی مذکورہ سڑک کے لیے چیف سیکریٹری نے کنٹونمنٹ بورڈ سے زمین کے حصول کو ممکن بنایا تھا جبکہ بجلی کے کھمبے منتقل کرنے کے لیے حیسکو کو رقم بھی ادا کردی گئی تھی۔ انکے مطابق ادائیگی کے باوجود کھمبے بروقت نہیں ہٹائے گئے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے پہلے سڑک تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ حیسکو پر کھمبے ہٹانے کے لیے دباؤ بڑھے۔ ان کے بقول میڈیا پر معاملہ آنے کے بعد حیسکو نے ایک ہی دن میں 25 کھمبے منتقل کردئیے۔
تاہم وزیراعلیٰ کا یہ موقف کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگر کھمبے ہٹانا ضروری تھا تو پھر انہیں منتقل کیے بغیر سڑک کی تعمیر شروع کرنے کی اجازت کس نے دی؟ کیا متعلقہ محکموں کے درمیان رابطے کا فقدان تھا یا منصوبے کی نگرانی میں سنگین غفلت برتی گئی؟ اور اگر حیسکو کو ادائیگی بھی کردی گئی تھی تو تعمیراتی کام شروع کرنے سے پہلے اس معاملے کو حل کیوں نہیں کیا گیا؟
ناکام منصوبہ بندی کو گرینڈ پلان قرار دے دیا؟
حیران کن طور پر وزیراعلیٰ سندھ نے اس پورے معاملے کو اپنی حکومت کی حکمت عملی اور گرینڈ پلان کا حصہ قرار دیا۔ ناقدین کے نزدیک اصل سوال یہ ہے کہ جس منصوبے میں سڑک کے درمیان بجلی کے کھمبے کھڑے رہ جائیں، اسے کامیاب منصوبہ بندی کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟
سوشل میڈیا صارفین نے بھی اس معاملے پر پیپلز پارٹی کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ نیوز چینلز پر بھی منصوبے کی تیاری اور نگرانی کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے۔
دوسری جانب حیسکو کے ترجمان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سڑک کی تعمیر سے پہلے ادارے کی جانب سے نشانات فراہم کیے جاتے ہیں اور کھمبے منتقل ہونے کے بعد تعمیراتی کام ہونا چاہیے۔ ترجمان نے بھی اس بات پر حیرت کا اظہار کیا تھا کہ متعلقہ محکموں نے کھمبے ہٹائے بغیر سڑک کی تعمیر کیوں مکمل کردی۔
اب سوال یہ ہے کہ حیدرآباد کے شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے نام پر شروع ہونے والے اس منصوبے میں بنیادی انتظامی غلطی کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








