حیدرآباد کی تاجر برادری نے ملک میں گندم کی قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو دسمبر 2026 یا جنوری 2027 تک سنگین غذائی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ کاروباری رہنماؤں نے وفاقی اور سندھ حکومت سے نجی شعبے کو بغیر درآمدی ڈیوٹی اور سبسڈی کے گندم درآمد کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
حیدرآباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری کے صدر ندیم احمد صدیقی، سینئر نائب صدر محمد فہد میاں اور نائب صدر عرفان اربیانی نے کہا کہ گندم کے ذخائر کا فوری معائنہ کرکے غیر معیاری اور انسانی استعمال کے لیے ناموزوں گندم الگ کی جائے جبکہ فلور ملوں کو معیاری گندم کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
ایف پی سی سی آئی کی فلور ملز ذیلی کمیٹی کے چیئرمین یاسر ملک کے مطابق مالی سال 2026-27 میں سندھ میں گندم کی متوقع دستیابی 48 لاکھ 40 ہزار ٹن کے مقابلے میں طلب 65 لاکھ 30 ہزار ٹن ہے جس سے 16 لاکھ 90 ہزار ٹن کی کمی ظاہر ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قومی سطح پر گندم کی متوقع پیداوار 2 کروڑ 75 لاکھ ٹن ہے جبکہ ہدف 2 کروڑ 97 لاکھ ٹن تھا، یوں تقریباً 22 لاکھ ٹن کی کمی متوقع ہے۔
یاسر ملک کے مطابق سندھ حکومت کے پاس 3 لاکھ 46 ہزار 414 ٹن گندم موجود ہے۔ پاسکو سے ایک لاکھ 90 ہزار ٹن اور مجوزہ درآمدات سے 3 لاکھ ٹن ملنے کے باوجود مجموعی ذخائر 8 لاکھ 36 ہزار 414 ٹن ہوں گے، جو ان کے بقول نئی فصل آنے تک ناکافی ہیں۔
تاجر رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری لائحہ عمل مرتب کرے، نجی درآمدات کی اجازت دے اور گندم کی فراہمی و آٹے کی قیمتوں میں استحکام یقینی بنائے
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








