نادرا کی رجسٹریشن خدمات میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال! شہریوں کو کیا سہولت ملے گی؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کو رجسٹریشن اور شناختی خدمات کی فراہمی مزید آسان بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ٹیبلٹس کے ذریعے موبائل سروسز کا آغاز کردیا ہے جس کے تحت نادرا کے اہلکار مختلف علاقوں میں پہنچ کر شہریوں کی رجسٹریشن سے متعلق امور انجام دے سکیں گے۔

نادرا حکام کے مطابق یہ ٹیبلٹ ڈیوائسز پاکستان میں تیار کروائی گئی ہیں، جبکہ ان کے استعمال کو مرحلہ وار مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ ان ڈیوائسز میں پاک آئی ڈی سافٹ ویئر نصب ہے، جس کی مدد سے رجسٹریشن کا عمل مستقل مراکز کے علاوہ ضرورت کے مطابق مختلف مقامات پر بھی انجام دیا جاسکتا ہے۔

فنگر پرنٹس، تصویر اور آنکھوں کے آئرس کی جدید سہولت

نادرا کی نئی ٹیبلٹ ڈیوائس کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ذریعے شہریوں کے فنگر پرنٹس، تصاویر اور آنکھوں کے آئرس کی معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اس جدید بائیومیٹرک نظام سے شناخت کی تصدیق اور رجسٹریشن کے عمل کو زیادہ سہل بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

حکام کے مطابق ایک نادرا اہلکار یہ ڈیوائس اپنے ساتھ لے کر مختلف علاقوں میں رجسٹریشن کی خدمات فراہم کرسکتا ہے، جس سے شہریوں کو شناختی دستاویزات سے متعلق امور کے لیے مخصوص مراکز پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔

شہریوں کے رش والے علاقوں میں فوری سہولت کی فراہمی

اس نظام کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اسے ان علاقوں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں یونین کونسل کی سطح پر شہریوں کا غیر معمولی رش ہو یا شناختی خدمات کی طلب زیادہ ہو۔

نادرا حکام کے مطابق اگر کسی یونین کونسل میں رجسٹریشن کے لیے آنے والے شہریوں کی تعداد بڑھ جائے تو ٹیبلٹ سے لیس اہلکار کو وہاں بھیجا جاسکتا ہے، تاکہ اضافی ضرورت کے مطابق خدمات فراہم کی جاسکیں۔

اس طریقہ کار سے شہریوں کے انتظار کا دورانیہ کم کرنے اور انہیں دور دراز رجسٹریشن مراکز تک جانے کی ضرورت گھٹانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

نادرا کی خدمات شہریوں کے مزید قریب لانے کی کوشش

جدید ٹیبلٹس کے استعمال کا بنیادی مقصد شناختی اور رجسٹریشن خدمات کو صرف روایتی مراکز تک محدود رکھنے کے بجائے شہریوں کی ضروریات کے مطابق مختلف علاقوں میں دستیاب بنانا ہے۔

پاک آئی ڈی سافٹ ویئر اور بائیومیٹرک ٹیکنالوجی سے لیس یہ ڈیوائسز نادرا کے ایسے نظام کا حصہ ہیں جس کے ذریعے موبائل سہولتوں کو ضرورت کے مطابق مختلف مقامات تک منتقل کیا جاسکتا ہے۔

اس اقدام سے بالخصوص ان علاقوں میں شہریوں کو سہولت پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے جہاں رجسٹریشن مراکز پر دباؤ زیادہ ہو یا شناختی خدمات تک رسائی میں مشکلات پیش آتی ہوں۔

Related Posts