ایرانی معیشت زمین بوس؟ تیل کی برآمدات صفر، کرنسی 35 فیصد گرگئی، جانیں حقائق

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

ایران کے مرکزی بینک کے گورنر نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی معیشت کے تباہ ہونے کا تاثر حقیقت کے بجائے ایک مفروضہ ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے ایرانی تیل کی برآمدات مکمل طور پر روکنے اور حکومت کی آمدنی محدود کرنے کے لیے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

رائٹرز کے مطابق ایرانی مرکزی بینک کے گورنر نے بنکاک میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی معیشت کے انہدام سے متعلق امریکی دعوے محض ایک تصور ہیں جبکہ تہران کو بیرونی معاشی دباؤ اور تجارتی مشکلات کا سامنا ہے۔

امریکا کا ایران پر معاشی دباؤ مزید سخت

رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے جولائی میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی جس کے بعد 24 اگست کو آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ شروع کیا گیا۔ اس مہم کا مقصد ایران کے باقی ماندہ مالیاتی اور تجارتی روابط کو عالمی معیشت سے منقطع کرنا بتایا گیا ہے۔

توانائی سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے ادارے ورٹیکسا کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے پہلے ہفتے میں ایران کی سمندری راستوں سے خام تیل کی برآمدات کا 14 روزہ اوسط یومیہ 2 لاکھ 30 ہزار بیرل تھا تاہم ستمبر کے دوسرے ہفتے میں یہ برآمدات صفر تک گر گئیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اکتوبر تک بھی یہی صورتِ حال برقرار تھی۔

ایرانی فضائی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ستمبر کے دوران امریکا نے اپنی معاشی مہم کا دائرہ بڑھاتے ہوئے ایرانی فضائی کمپنیوں کو بھی ہدف بنایا جس سے ایران کے بیرونی دنیا کے ساتھ روابط مزید محدود اور مہنگے ہو گئے۔

امریکی دباؤ کے ساتھ ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ایرانی کرنسی کے نرخوں پر نظر رکھنے والے ادارے بونباسٹ کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے اب تک امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر تقریباً 35 فیصد کم ہو چکی ہے۔

ایران کو درپیش معاشی صورتِ حال میں تیل کی برآمدات میں کمی، مالیاتی روابط پر پابندیاں اور کرنسی کی گرتی ہوئی قدر اہم عوامل کے طور پر سامنے آئے ہیں جبکہ ایرانی مرکزی بینک کے گورنر نے معیشت کے مکمل انہدام سے متعلق امریکی موقف کو مسترد کیا ہے۔

Related Posts