پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے ان سوشل میڈیا دعوؤں کی تردید کی ہے جن میں الزام لگایا گیا تھا کہ اسلام آباد کی اجازت سے امریکی بحریہ پاکستانی سرزمین کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ وزارت نے ان اطلاعات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد غلط فہمیاں پھیلانا اور عوام میں بے یقینی پیدا کرنا ہے۔
وزارتِ اطلاعات نے اپنے فیکٹ چیک اکاؤنٹ پر جاری بیان میں بتایا کہ یہ دعویٰ شمالی امریکا سے چلائے جانے والے ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے سامنے آیا جسے بعد ازاں مختلف ذرائع سے مزید پھیلایا گیا۔
𝐅𝐚𝐜𝐭 𝐂𝐡𝐞𝐜𝐤 | 𝐌𝐢𝐧𝐢𝐬𝐭𝐫𝐲 𝐨𝐟 𝐈𝐧𝐟𝐨𝐫𝐦𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 & 𝐁𝐫𝐨𝐚𝐝𝐜𝐚𝐬𝐭𝐢𝐧𝐠
◼️ Fabricated propaganda by a North America based account and questingly proliferated further, that the US Navy is somehow operating from Pakistani territory against Iran, with alleged Pakistani approval, is baseless and part of wider agenda of sowing confusion, misperceptions and chaos.
◼️ Such social media posts actually deserve no attention by any serious minded observer and need to be categorised and treated as propaganda only.
𝐓𝐫𝐮𝐭𝐡 𝐏𝐫𝐞𝐯𝐚𝐢𝐥𝐬 𝐨𝐯𝐞𝐫 𝐅𝐚𝐥𝐬𝐞𝐡𝐨𝐨𝐝
— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) October 17, 2026
بیان کے مطابق پاکستان کی سرزمین سے ایران کے خلاف امریکی بحریہ کی کارروائیوں اور اس حوالے سے پاکستانی حکومت کی مبینہ اجازت سے متعلق اطلاعات حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔ وزارت نے خبردار کیا کہ اس طرح کی مہمات معاشرے میں ابہام پیدا کرنے، غلط تاثر قائم کرنے اور انتشار کو ہوا دینے کا سبب بن سکتی ہیں۔
وزارتِ اطلاعات نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے پیغام دیا کہ سچائی بالآخر جھوٹ پر غالب آتی ہے۔
پاکستان ایران سرحد پر تجارت سیکیورٹی خدشات کے باعث معطل
دوسری جانب سیکیورٹی صورتِ حال کے پیش نظر بلوچستان میں پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت بھی عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔ اس پیش رفت کی تصدیق ضلع چاغی کے ڈپٹی کمشنر بختیار اسماعیل نے کی۔
انہوں نے ہفتے کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ حفاظتی وجوہات کی بنا پر ایران کے ساتھ سرحدی تجارتی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کی گئی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق سرحد بند کرنے کا فیصلہ سرحدی انتظامات کو مزید موثر بنانے اور انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں مدد فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ بندش مستقل نہیں ہے اور مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جانے کے بعد سرحد دوبارہ کھول دی جائے گی۔
سرحدی تجارت کی معطلی پر تاجروں نے مالی نقصانات کے خدشات ظاہر کیے ہیں کیونکہ اس راستے سے ہونے والی تجارتی سرگرمیوں میں تعطل کاروباری طبقے کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








