ماسکو اور تہران کے مابین اقتصادی تعاون کے ایک نئے مرحلے کے تحت روس کی جانب سے ایران کو ایک ارب ڈالر کا بھاری قرض فراہم کیے جانے کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں تاہم تہران کو ملنے والی اس خطیر رقم کے استعمال پر ایرانی حکومت کے مختلف محکموں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے ہیں جس کی وجہ سے فنڈز کی منتقلی کا عمل عارضی طور پر رک گیا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس اور نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق اس ایک ارب ڈالر کے قرض کی ادائیگی کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی جا چکی ہے اور ماسکو اس رقم کو ایران منتقل کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار بیٹھا ہے۔
روسی حکام کی جانب سے صرف تہران کی طرف سے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات فراہم کیے جانے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
رقم کے استعمال پر وزارتوں کی آپس میں تانتا کشی
اس مالی امداد میں تاخیر کی اصل وجہ ایرانی حکومت کے اندرونی اداروں کے درمیان اس بات پر اتفاق نہ ہونا ہے کہ ان پیسوں کو کس شعبے میں خرچ کیا جائے۔
رپورٹس کے مطابق:
پلاننگ اینڈ بجٹ آرگنائزیشن کا اصرار ہے کہ اس فنڈ کو گاڑیوں کی درآمدات (امپورٹس) کے لیے استعمال کیا جائے۔
وزارتِ تیل چاہتی ہے کہ اس رقم سے تیل اور گیس کی صنعت کے لیے جدید آلات اور مشینری خریدی جائے۔
وزارتِ زراعت کا موقف ہے کہ اس مالی پیکیج کو ملک کی زرعی ضروریات اور اہم اشیاء کی درآمدات پر لگایا جائے۔
واضح رہے کہ اس ایک ارب ڈالر کے قرض کا پہلی بار رواں سال جون میں ذکر سامنے آیا تھا جسے دراصل ایران کے لیے مختص کیے جانے والے مجموعی 20 ارب ڈالر کے بڑے روسی قرضہ پیکیج کی پہلی قسط قرار دیا جا رہا ہے۔
چونکہ تہران کی اندرونی وزارتوں کے مابین ترجیحات کا تنازع تاحال حل نہیں ہوسکا اور حکومت نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا اس لیے تاحال فنڈز کی منتقلی کے لیے ضروری بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات روسی حکام کے حوالے نہیں کی گئیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








