کراچی کے مضافاتی علاقے گڈاپ ٹاؤن کے ایک نجی فارم ہاؤس پر نوکری کا جھانسہ دے کر دجنوں لڑکیوں کو انٹرویو کے لیے بلا کر انکے قیمتی موبائل فونز چوری کرکے فرار ہونے والے مرکزی ملزم کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق مکروہ فعل کا ماسٹر مائنڈ مبینہ طور پر گوجرانوالہ یا کشمیر فرار ہو چکا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس ہائی پروفائل مقدمے میں مرکزی ملزم کے چار میں سے دو بھائیوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مرکزی ملزم کی ڈیجیٹل لوکیشن ٹریس کر لی گئی ہے۔
تکنیکی ذرائع کے ذریعے ملزم کے اصل نمبر کی لوکیشن گوجرانوالہ ظاہر ہوئی ہے تاہم دورانِ تفتیش پولیس کی جب ملزم سے فون پر بات ہوئی تو اس نے اپنی موجودگی کشمیر بتائی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ملزم کے مختلف مقامات بتانے کے باوجود اس کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور اسے جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
اصل نام بابر اور جعلی شناخت سلمان کا پردہ فاش
تفتیشی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اس پورے فراڈ کا ماسٹر مائنڈ اور خود کو منیجر ظاہر کرنے والا اصل میں بابر نامی شخص ہے، جو تاحال مفرور ہے لیکن اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ملزم نے متاثرہ لڑکیوں کو اپنا نام سلمان بتا رکھا تھا اور وہ واردات کے لیے کسی اور کے نام پر رجسٹرڈ موبائل سم استعمال کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ پولیس نے مرکزی ملزم کے ایک سہولت کار اور ساتھی کو بھی دبوچ لیا ہے۔
واقعے کا پس منظر: سوشل میڈیا اشتہار سے فارم ہاؤس تک
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 30 ستمبر کو گڈاپ سٹی کے علاقے میں سوشل میڈیا پر نوکری کا ایک پرکشش اشتہار جاری کیا گیا تھا۔ اس جھانسے میں آ کر 59 لڑکیوں کو دو مختلف بسوں میں سوار کر کے گڈاپ کے ایک نجی فارم ہاؤس ٹریننگ اور انٹرویو کے بہانے لایا گیا۔
فارم ہاؤس پر پہنچنے کے بعد لڑکیوں کو یہ کہہ کر بیوقوف بنایا گیا کہ سیکیورٹی اور پالیسی کے تحت یہاں ریکارڈنگ یا فون کا استعمال ممنوع ہے، لہذا وہ اپنے تمام موبائل فونز ایک بیگ میں جمع کرا دیں۔ ساحل عرف سلمان نامی شخص نے تمام لڑکیوں کے موبائل فونز ایک بیگ میں اکٹھے کیے اور موقع غنیمت جان کر اپنے ساتھی سمیت نو دو گیارہ ہو گیا۔
پولیس کارروائی اور مقدمہ درج
اس ہولناک فراڈ کے فوری بعد تمام متاثرہ لڑکیاں انصاف کے حصول کے لیے گڈاپ ٹاؤن تھانے پہنچیں۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے فوری طور پر ایکشن لیا اور فارم ہاؤس پر چھاپہ مار کر وہاں کے منیجر وقاص اور کوآرڈنیٹر نرگس کو حراست میں لے لیا۔ ملیر پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کا باقاعدہ مقدمہ درج کر کے تمام پہلوؤں اور محرکات پر گہرائی سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








