خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بالخصوص امریکا ایران کشیدگی کے سائے اب پاکستانی معیشت پر بھی گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ تازہ ترین معاشی اعداد و شمار کے مطابق برآمدی شعبے کو شدید دھچکا لگا ہے اور گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں ملکی برآمدات میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر سے زائد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
برآمدات کا مجموعی حجم سکڑ گیا
سرکاری ذرائع کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی مجموعی برآمدات کا حجم 32 ارب ڈالر کی سطح سے نیچے آ گیا ہے اور اب یہ کم ہو کر 30 ارب 80 کروڑ ڈالر پر محدود ہو گئی ہیں۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ خطے میں جاری سیکیورٹی خدشات اور سپلائی چین میں تعطل نے ملکی تجارت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
کن شعبوں کو سب سے بڑا نقصان ہوا؟
رپورٹ کے مطابق برآمدات میں کمی کا شکار ہونے والے اہم شعبے درج ذیل ہیں:
چاول کی برآمدات: زرعی شعبے کو سب سے بڑا دھچکا لگا جہاں اکیلے چاول کی برآمدات میں ایک ارب 2 کروڑ ڈالر کی تاریخی کمی دیکھی گئی۔
دیگر اشیاء: چاول کے علاوہ روایتی برآمدی شعبے بشمول ٹیکسٹائل، چینی اور دیگر اہم زرعی اجناس کی ترسیل بھی بُری طرح متاثر ہوئی۔
علاقائی تجارت شدید متاثر
صرف اشیا ہی نہیں بلکہ جغرافیائی لحاظ سے بھی برآمدی منڈیوں میں بڑا خسارہ اٹھانا پڑا ہے:
خلیجی ممالک: خلیجی ریاستوں کو ہونے والی برآمدات میں 10 کروڑ ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔
وسطی ایشیا اور افغانستان: خطے کے ان ممالک کے لیے پاکستانی برآمدات میں 59 فیصد تک بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔
حکومت کا موقف اور اقدامات
معاشی امور کے حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بین الاقوامی تجارت، ترسیل کے اخراجات (Freight Charges) اور لاجسٹکس کے مسائل شدت اختیار کر گئے ہیں۔ اس کٹھن صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت کی جانب سے صنعتوں کو ریلیف دینے، توانائی کی قیمتوں میں استحکام اور ٹیکسز میں کمی کے لیے ہنگامی نوعیت کی کوششیں جاری ہیں تاکہ برآمدات کے پہیے کو دوبارہ رفتار دی جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








