ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں مصروف طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات اہلکاروں کے اہلِ خانہ اور ڈیموکریٹک قانون سازوں نے اہلکاروں کی ذہنی صحت اور جہاز کی خراب صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خدشات کو مسترد کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز نیویارک روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ سے جہاز کے طویل سمندری قیام سے متعلق سوال کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بحری جہاز کا تقریباً ساڑھے آٹھ ماہ سمندر میں رہنا کوئی غیر معمولی یا حد سے زیادہ طویل مدت نہیں، بلکہ موجودہ صورتحال کے لحاظ سے قابلِ قبول ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن اب اپنے اگلے مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے اور بہت جلد اسی نوعیت کا ایک دوسرا امریکی طیارہ بردار جہاز اس کی جگہ سنبھال لے گا۔ ان کے مطابق بحری جہاز کی طویل تعیناتی کو ضرورت سے زیادہ قرار دینا درست نہیں ہے۔
خیال رہے کہ یہ امریکی طیارہ بردار جہاز گزشتہ سال نومبر میں سان ڈیاگو سے روانہ ہوا تھا، جس کے بعد اسے مشرق وسطیٰ منتقل کردیا گیا۔ جہاز کو ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں میں معاونت فراہم کرنے کے لیے خطے میں تعینات کیا گیا تھا اور اس پر بڑی تعداد میں امریکی فوجی موجود ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق اس وقت تقریباً 5 ہزار نیوی اور ملٹری اہلکار جہاز پر تعینات ہیں۔ امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے ڈیموکریٹک رکن سینیٹر رچرڈ بلومنتھل کا کہنا ہے کہ جہاز مسلسل 200 سے زیادہ دن سمندر میں رہ کر نیا ریکارڈ قائم کرچکا ہے۔
اہلکاروں کے اہلِ خانہ اور ڈیموکریٹک رہنماؤں نے جہاز میں مبینہ طور پر ناقص کھانے، صفائی کے مسائل، ضروری سامان کی کمی اور اہلکاروں کی بگڑتی ذہنی صحت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان حلقوں نے طویل تعیناتی کے دوران فوجیوں کو درپیش مشکلات اور ان کی فلاح و بہبود سے متعلق وضاحت بھی طلب کی ہے۔
’ملٹری ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جہاز پر موجود بعض اہلکاروں نے سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوشش بھی کی۔ دوسری جانب امریکی دفاعی سیکریٹری پیٹ ہیگسیتھ نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال کو حقیقت سے مختلف انداز میں پیش کیا جارہا ہے اور ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے۔
تاہم حکومتی مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے جہاز پر موجود ایک اہلکار کی اہلیہ نے ’دی گارجین‘ سے گفتگو میں حالات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر اس سے قبل بھی کئی فوجی مشنز میں حصہ لے چکے ہیں، لیکن انہوں نے موجودہ تعیناتی کو اپنی زندگی کا مشکل ترین سفر قرار دیا ہے۔
خاتون کے مطابق ان کے شوہر کے دیگر ساتھی اہلکار بھی جہاز کی صورتحال کے بارے میں اسی نوعیت کے خیالات رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاز کی حالت انتہائی خراب محسوس ہوتی ہے اور یہ پانی پر تیرتی لوہے کی جیل جیسا لگتا ہے، جہاں اہلکار تقریباً 12 گھنٹے کام کرکے روزانہ صرف 4 سے 5 گھنٹے آرام کرپاتے ہیں۔
خاتون نے کہا کہ جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اہلکاروں کے اہلِ خانہ پریشان نہیں ہیں تو انہیں اس بیان پر شدید غصہ آیا۔ ان کے مطابق صدر کو فوجیوں کی مشکلات، بحری جہازوں کی حالت اور جنگی حالات کے بارے میں بات کرتے ہوئے زیادہ ذمہ داری اور احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








