طالبان دور میں افغانستان میں خواتین کے قتل اور تشدد کے 231 واقعات کا انکشاف

تازہ ترین

تازہ ترین

افغانستان
(فوٹو: آن لائن)

اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کے 10 صوبوں میں خواتین کے قتل اور مہلک تشدد کے کم از کم 231 واقعات رپورٹ کیے گئے ہیں۔ برطانوی اخبار دی گارڈین سمیت عالمی میڈیا کی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق قانونی و عدالتی تحفظ ختم ہونے کے نتیجے میں خواتین کو شدید گھریلو تشدد کا سامنا ہے، جبکہ متعدد ہلاکتوں کو غلط طور پر خودکشی ظاہر کرکے ملزمان کو قانونی کارروائی سے بچایا جا رہا ہے۔

دی گارڈین کے مطابق اگست 2021 سے اب تک افغانستان کے 10 صوبوں میں زن کشی یعنی خواتین کے قتل، کے 231 تصدیق شدہ واقعات سامنے آئے ہیں۔ یہ تعداد صرف ان کیسز پر مشتمل ہے جن کی میڈیا نے تصدیق کی، جبکہ حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ 36 واقعات جوزجان، 32 ہرات، 28 بدخشان اور 26 غزنی میں رپورٹ ہوئے۔ متاثرہ خواتین کی عمریں 5 سے 65 سال کے درمیان تھیں، جن میں 165 گھریلو خواتین شامل تھیں اور ان کا کوئی ذاتی ذریعہ معاش نہیں تھا۔  اس صورتحال نے ان خواتین کے لیے تشدد سے بچ نکلنے یا قانونی کارروائی کا راستہ اختیار کرنا انتہائی مشکل بنا دیا۔

رپورٹ کیے گئے 231 کیسز میں سے صرف 58 میں ملزمان کی گرفتاری کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ متعدد واقعات میں گرفتار افراد کو مختصر مدت کے بعد رہا کر دیا گیا۔رپورٹ میں 53 ہلاکتوں کو سرکاری طور پر خودکشی قرار دیے جانے کا ذکر بھی کیا گیا ہے، تاہم لواحقین اور عینی شاہدین کے مطابق ان خواتین کو شدید گھریلو تشدد کا سامنا تھا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اس میں 33 سالہ لیزا شمس اور اقوامِ متحدہ کی 33 سالہ ملازمہ فرشتہ عمادی کے کیسز بھی شامل ہیں، جنہیں مبینہ طور پر شدید تشدد کے بعد قتل کیا گیا، تاہم ان کی ہلاکتوں کو خودکشی یا زہر خوری قرار دے کر معاملہ دبانے کی کوشش کی گئی۔

واضح رہے کہ طالبان کے موجودہ نظام میں خواتین کے تحفظ سے متعلق تمام قانونی ادارے ختم کیے جا چکے ہیں۔ 2023 میں اٹارنی جنرل آفس معطل کر دیا گیا، وزارتِ خواتین، تشدد کے خلاف مخصوص پراسیکیوٹر آفس اور سیف ہاؤسز، یعنی خواتین کی پناہ گاہوں، کا نیٹ ورک بھی ختم کر دیا گیا، جبکہ تقریباً 250 خاتون ججوں کو ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا گیا اور اس کے نتیجے میں خواتین اور اپنے اور اپنی بیٹیوں کیلئے انصاف سے محروم ہوگئی ہیں۔

Related Posts