نادرا سے بچے یا بچی کا ب فارم بنوانے والے والدین کے لیے اہم ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے مطابق ب فارم کی درخواست جمع کروانے سے قبل چند بنیادی امور کی جانچ کرلینے سے غیر ضروری تاخیر اور درخواست میں پیش آنے والی مشکلات سے بچا جاسکتا ہے۔
ب فارم کے لیے درخواست نادرا دفتر یا پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے جمع کروائی جاسکتی ہے، تاہم درخواست دینے سے قبل والدین کو اپنے شناختی کارڈز اور نادرا ریکارڈ سے متعلق معلومات کی تصدیق کرلینی چاہیے۔
نادرا کے مطابق ب فارم کی درخواست جمع کروانے سے پہلے والدین یعنی درخواست گزار اور اس کے شریک حیات دونوں کے شناختی کارڈ فعال ہونا ضروری ہیں۔ دونوں شناختی کارڈز کی میعاد ختم نہیں ہونی چاہیے، بصورت دیگر ب فارم کے اجرا کے عمل میں مشکلات یا غیر ضروری تاخیر کا سامنا ہوسکتا ہے۔
اسی طرح نادرا کے ریکارڈ میں والدین کے ذاتی کوائف بھی مکمل اور درست درج ہونا ضروری ہیں۔ ان کوائف میں والدین کے نام، شوہر یا بیوی کا نام، شناختی کارڈ نمبر اور دیگر متعلقہ معلومات شامل ہیں۔
نادرا ریکارڈ میں والدین کی ازدواجی حیثیت بھی درست درج ہونا لازمی ہے۔ اگر ریکارڈ میں شادی شدہ ہونے کے باوجود ازدواجی حیثیت غیر شادی شدہ درج ہو تو ب فارم کے اجرا کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔
اس کے علاوہ بچے کی پیدائش کا یونین کونسل میں اندراج بھی درست اور مکمل کوائف کے ساتھ ہونا ضروری ہے۔ والدین کو ب فارم کی درخواست دینے سے قبل یہ یقینی بنانا چاہیے کہ بچے کی پیدائش کا ریکارڈ متعلقہ یونین کونسل میں موجود اور درست معلومات کے ساتھ درج ہے۔
نادرا کے مطابق 3 سال سے زیادہ عمر کے بچے کے لیے تصویر اور انگلیوں کے نشانات بھی حاصل کیے جاتے ہیں، اس لیے ایسے بچے کی ب فارم کے عمل کے دوران موجودگی ضروری ہوگی۔
والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ ب فارم کے لیے درخواست دینے سے قبل نادرا ریکارڈ، شناختی کارڈز اور بچے کے پیدائشی اندراج سے متعلق تمام معلومات کی جانچ کرلیں تاکہ درخواست کے عمل میں غیر ضروری تاخیر سے بچا جاسکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








