چترال کے مختلف علاقوں میں گلیشیئر پھٹنے اور کلاؤڈ برسٹ کے باعث آنے والے شدید سیلاب نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کردیا۔ درجنوں مقامات پر آنے والے سیلابی ریلوں نے سڑکوں، پلوں اور مواصلاتی نظام کو نقصان پہنچایا جس کے باعث کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
سیلابی صورتحال کے باعث چترال پشاور مرکزی شاہراہ اور چترال شندور روڈ کئی مقامات پر سیلاب بردگی اور پلوں کے تباہ ہونے کی وجہ سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہوگئی ہیں۔ اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سیلابی واقعات میں دو افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں ایک شخص کا تعلق بروز سے بتایا گیا ہے جبکہ ریسکیو 1122 نے دریائے چترال سے ایک لاش بھی برآمد کی ہے جس کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔

بروز کے مقام پر کلاؤڈ برسٹ کے بعد گمبس گول اور بروز گول میں آنے والے شدید سیلابی ریلوں نے کئی پل بہا دییے جس سے چترال کا ملک کے دیگر حصوں سے رابطہ متاثر ہوگیا۔ سیلاب کے باعث فائبر آپٹک لائن کو بھی نقصان پہنچا جس کے نتیجے میں انٹرنیٹ رابطہ بھی متاثر ہوا۔

گمبس گول میں ایک معمر شخص سیلابی ریلے کی زد میں آکر جاں بحق ہوگیا جبکہ علاقے میں واقع ایک پٹرول پمپ کو بھی نقصان پہنچا۔ پٹرول پمپ کے احاطے میں کھڑی متعدد گاڑیاں بھی پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ گئیں۔

لوئر چترال کی وادی کریم آباد میں سیلاب نے تقریباً ایک درجن پلوں کو نقصان پہنچایا یا بہا کر لے گیا جس سے ندی کے دونوں اطراف آباد لوگوں کا باہمی رابطہ ختم ہوگیا۔ پرئیت گول میں بھی شدید سیلاب آیا تاہم ندی کی گہرائی میں واقع ہونے کے باعث پانی آبادی میں داخل نہ ہوسکا۔ سیلابی ریلے نے دریائے چترال کے بہاؤ کو کئی گھنٹوں تک متاثر رکھا۔

اپر چترال میں ریشن سے لے کر مستوج کے قریب پرکوسپ تک مختلف دیہات کے ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔ متاثرہ علاقوں میں ریشن، زئیت، کوراغ، چرون، بونی، اوی، پرواک، مستوج خاص اور پرکوسپ شامل ہیں۔

پرواک کے مقام پر شدید بارش کے باعث پہاڑی تودے گرنے سے بونی مستوج روڈ تقریباً 16 گھنٹے تک بند رہا جس کے نتیجے میں دونوں اطراف ڈیڑھ سو سے زائد گاڑیاں اور مسافر پھنسے رہے۔ مسافروں نے شکایت کی کہ ملبہ ہٹانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فوری طور پر بھاری مشینری استعمال نہیں کی گئی اور ٹریکٹروں کے ذریعے کام کرنے سے بحالی کا عمل سست رہا۔

کوراغ کے قریب پہاڑی علاقے سے گزرنے والی سڑک کا ایک حصہ بھی شدید سیلابی بہاؤ میں بہہ گیا جس کے بعد اپر اور لوئر چترال کے درمیان آمدورفت متاثر ہوگئی اور پیدل راستہ بھی دشوار ہوگیا۔
لوئر چترال کے ڈپٹی کمشنر محمد ہاشم عظیم نے بتایا کہ تمام متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا جائزہ لینے کا عمل جاری ہے جبکہ امدادی ٹیمیں بھی فوری طور پر روانہ کردی گئی ہیں۔ ان کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی بروز کے مقام پر سڑک بحالی اور بروز گول میں پل کے عارضی راستے کی تعمیر کے کام میں مصروف ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹی ایم اے اور سول ڈیفنس کے اہلکار بھی متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں جبکہ فوکس ہیومنیٹرین پاکستان کی ڈیزاسٹر اسیسمنٹ رسپانس ٹیم (DART) بروز سمیت دیگر متاثرہ مقامات پر نقصانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ محمد طلحہ محمود فاؤنڈیشن کے نمائندے بھی بروز اور دیگر علاقوں میں ابتدائی امدادی سرگرمیوں کے لیے موجود رہے۔
سیلابی صورتحال کے باعث چترال کے مقامی اسکولوں میں تعطیلات کردی گئیں، بازاروں میں معمول کی سرگرمیاں محدود رہیں جبکہ سرکاری دفاتر میں حاضری بھی انتہائی کم رہی۔
بروز کے مقام پر سڑک بند ہونے کے باعث چھوٹی گاڑیاں غوچ کے راستے سفر کر رہی ہیں جبکہ اپر چترال کے کوراغ میں سڑک متاثر ہونے کے بعد فور ویل گاڑیاں کوشٹ شینجور کے راستے چترال پہنچ رہی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








