ڈیجیٹل دور کی تیز رفتار زندگی میں سہولت کے لیے ہم اپنے تمام کام ڈیجیٹل سسٹمز پر منتقل کر چکے ہیں لیکن یہی سہولت بعض اوقات بڑی مشکل کا سبب بن جاتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ آپ کا واٹس ایپ اس وقت آپ کے فون کے علاوہ کہاں کہاں کھلا ہے؟
دفتر کے کمپیوٹر یا کسی دوست کے لیپ ٹاپ پر واٹس ایپ کھول کر سائن آؤٹ کرنا بھول جانا بظاہر ایک معمولی سی بات لگتی ہے مگر حقیقت میں یہ چھوٹی سی غفلت آپ کی نجی چیٹس اور تصاویر کو کسی بھی اجنبی کی پہنچ میں لا سکتی ہے۔
لنکڈ ڈیوائسز فیچر کیسے کام کرتا ہے؟
واٹس ایپ کا یہ کارآمد ٹول صارفین کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے اصل فون کے علاوہ بیک وقت مزید چار مختلف سسٹمز پر اپنا اکاؤنٹ فعال رکھ سکیں۔
اس فیچر کی خاص بات یہ ہے کہ ایک بار ڈیوائس لنک ہونے کے بعد آپ کے اصل فون کا انٹرنیٹ آن نہ بھی ہو تب بھی دوسری اسکرین پر واٹس ایپ بلاتعطل چلتا رہتا ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جو خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔
آپ کا واٹس ایپ اس وقت کہاں کہاں ایکٹیو ہے؟
یہ جاننا اب بالکل مشکل نہیں کہ آپ کا اکاؤنٹ اس وقت کس اسکرین کی زد میں ہے۔
اینڈرائیڈ صارفین اپنے واٹس ایپ کو اوپن کرکے اوپری دائیں کونے میں موجود تین نقطوں پر ٹیپ کریں اور لنکڈ ڈیوائسز کا انتخاب کریں جبکہ آئی فون صارفین واٹس ایپ کی سیٹنگز میں جا کر وہاں موجود لنکڈ ڈیوائسز پر کلک کریں۔
یہاں آپ کو ان تمام کمپیوٹرز اور فونز کی لسٹ مل جائے گی جو اس وقت آپ کے اکاؤنٹ سے جڑے ہوئے ہیں۔
نامعلوم ڈیوائس نظر آئے تو کیا کریں؟
اگر فہرست میں کوئی ایسا سسٹم یا فون دکھائی دے جسے آپ نہیں پہچانتے، تو اسے ہرگز نظر انداز مت کریں۔
فوری طور پر اس نامعلوم ڈیوائس پر کلک کریں اور لاگ آؤٹ کا بٹن دبا دیں۔ اس عمل سے اس ڈیوائس کی آپ کے واٹس ایپ تک رسائی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔
کیا ہر انجان ڈیوائس کا مطلب ہیکنگ ہے؟
ہر بار نامعلوم ڈیوائس کا ظاہر ہونا ہیکنگ کی علامت نہیں ہوتا۔ اکثر ہم ماضی کی کسی مجبوری کے تحت عارضی طور پر دوسرے کمپیوٹرز پر واٹس ایپ کھولتے ہیں اور بھول جاتے ہیں۔
اگر کوئی ایسا فون یا سسٹم فہرست میں موجود ہو جسے آپ نے کبھی ہاتھ بھی نہیں لگایا تو معاملے کو سنجیدہ لیں۔ یاد رکھیں محض چند سیکنڈ کے لیے آپ کا فون کسی اور کے ہاتھ لگنا بھی اس طرح کے لنک کی وجہ بن سکتا ہے۔
اکاؤنٹ کو مکمل محفوظ بنانے کے چند اصول
ہفتے میں کم از کم ایک بار اپنے واٹس ایپ کی لنکڈ ڈیوائسز لسٹ کا جائزہ ضرور لیں۔ کسی نامعلوم شخص کے کہنے پر اپنے فون پر کبھی کوئی ویریفیکیشن یا پیئرنگ کوڈ درج نہ کریں۔
اپنے اسمارٹ فون پر بائیومیٹرک لاک یعنی فنگر پرنٹ یا فیس آئی ڈی لازمی فعال رکھیں۔ واٹس ایپ پر ٹو اسٹیپ ویری فکیشن کا فیچر ہمیشہ آن رکھیں تاکہ سیکیورٹی فول پروف رہے۔ کسی بھی پبلک یا دفتری کمپیوٹر پر واٹس ایپ استعمال کرنے کے بعد سائن آؤٹ کرنا کبھی نہ بھولیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








