ڈکٹیٹر اور ن لیگ کی حکومت میں کوئی فرق نہیں، عمران خان

ڈکٹیٹر اور ن لیگ کی حکومت میں کوئی فرق نہیں، عمران خان

پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ڈکٹیٹر اور ن لیگ کی حکومت میں کوئی فرق نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے آزادی مارچ کی گرفتاریوں کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈکٹیٹر اور ن لیگ کی حکومت میں کوئی فرق نہیں ہے، فاشسٹ حکومت نے کارروائیاں شروع کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب مزید کسی کے نیوٹرل رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور پوری قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے، جو خود کو نیوٹرل کہتے ہیں ان کا حلف ہے کہ وہ ملک کی خودداری کا تحفظ کریں، حق کے لیے کھڑے صحافیوں کے خلاف آج مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت کا پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اللہ ہمیں قرآن میں نیوٹرل رہنے کی اجازت نہیں دیتا، آپ نے فیصلہ کرنا ہے آپ راہ حق کے ساتھ کھڑے ہیں یا دوسری طرف کھڑے ہیں، اللہ نے بیچ میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی، جو نیوٹرل کہتے ہیں ان کو واضح کرتا ہوں ان کا حلف پاکستان کی سالمیت، خوداری کا کرنا ہے۔

سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ قوم نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیا یہ علامہ اقبال اور قائد اعظم کا ملک ہے اور عدلیہ کا امتحان ہے عوام ان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ 60 فیصد کابینہ مجرم ہے، ان میں سے 60 فیصد ضمانتوں پر ہیں، کرائم منسٹر اور بیٹے کو سزا ہونا تھی، ان پر 24 ارب کے کیسز ہیں یہ آج ملک کے فیصلے کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات کے پیش نظر انتخابات ہی فوری حل ہے اور خدشہ ہے کہ ملک میں سری لنکا والے حالات پیدا نہ ہو جائیں، نیوٹرلز، ججز اور وکلا کو پیغام دیتا ہوں کہ یہ فیصلہ کن وقت ہے، ملک تباہی کی طرف گیا تو آپ بھی اس کے ذمہ دار ہوں گے۔

قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں بہت سے اہم فیصلے کیے گئے، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان قوم کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں اور وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ فتنہ فساد مارچ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ لاہور میں پولیس اہلکار شہید ہوا، ویسے تو پی ٹی آئی قیادت بہت بہادر بنتی ہے اور اب ساری گھروں سے غائب ہوکر پشاور میں جابیٹھی ہے، یہ لوگ وہاں سے صوبائی فورسز لے کر بڑے جتھے کی صورت میں وفاق پر حملہ آور ہونا چاہتے ہیں جس کی کوئی قانونی حیثیت نہ ہو۔

وفاقی وزیر داخلہ راناثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ایسا جتھہ جو وفاق پر حملہ آور ہونے والا ہو اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ فتنہ و فساد پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اس لیے حکومت نے انہیں لانگ مارچ کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، نالائق ٹولہ خونی مارچ کے بیانات دیتا رہا جو کہ ریکارڈ پر ہیں، یہ لوگ جس آزادی مارچ کی بات کررہے ہیں وہ خونی مارچ ہے اس لیے انہیں لانگ مارچ سے روکا جائے گا۔

 

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں