سندھ ہائیکورٹ نے دعا زہرہ کو 30 مئی کو پیش کرنیکا حکم دے دیا

دعا اپنی مرضی سے فیصلہ کرے، تحریری حکم نامہ جاری

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے حکم دیا ہے کہ دعا زہرہ کو 30 مئی کے روز عدالت میں پیش کیا جائے۔ حکم کمسن مدعا علیہ دعا زہرہ کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت کے بعد دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق عدالتِ عالیہ سندھ میں دعا زہرہ کی بازیابی کے بارے میں درخواست کی سماعت کے دوران دعا زہرہ کے والدین، آئی جی سندھ، ایس ایس پی ایسٹ اور دیگر فریقین عدالت کے روبرو حاضر ہوئے۔ پولیس نے عدالتی حکم کے مطابق دعا زہرہ کی بازیابی پر رپورٹ پیش کردی۔

یہ بھی پڑھیں:

حکومت کا سندھ میں دہشت گردی کے خلاف دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ

دعا زہرہ عدالت کے طلب کرنے پر بھی درخواست کی سماعت کیلئے پیش نہ ہوسکیں۔ پولیس نے رپورٹ میں بتایا کہ دعا زہرہ کی لوکیشن مظفر آباد کی ٹریس ہوئی تاہم گزشتہ روز تمام نمبرز بند ہوئے جبکہ سگنلز بالاکوٹ سے لوکیٹ کیے گئے۔ عدالت نے پنجاب پولیس سے رابطے پر استفسار کیا۔

عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ بچی کو خیبر پختونخوا منتقل کیا گیا ہے۔ معزز جج نے ریمارکس دئیے کہ لڑکی کو یہاں لانا ہوگا، کیس کا فیصلہ یہیں ہونا ہے۔ بعد ازاں عدالت نے دعا زہرہ کو 30 مئی کے روز پیش کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ کو ہدایات جاری کرنے کے احکامات دے دئیے۔

سماعت کے بعد میڈیا نمائندگان سے بات چیت کرتے ہوئے آئی جی سندھ کامران فضل کا کہنا تھا کہ دعا زہرہ کی بازیابی کیلئے درخواست کی سماعت اور اغواء سے متعلق کیس پر تفتیش کر رہے ہیں۔ پولیس تاحال ایسا کوئی سراغ تلاش نہیں کرسکی کہ کسی منظم گروہ نے دعا زہرہ کو اغوا کیا ہو۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں