پشاور ہائی کورٹ کا آزادی مارچ کے خلاف شاہراہیں بند نہ کرنے کا حکم

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

پشاور ہائی کورٹ نے حکم دیا ہےکہ آزادی مارچ کے شرکاء کو روکنے کے لیے صوبائی حکومت اپنی شاہراہیں بند نہ کرے جبکہ پیمرا کو ٹی وی پر حکومت جتنا وقت اپوزیشن کو بھی دینے کا پابند کیا گیا ہے۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ   نے  آزادی مارچ روکنے کے لیے سڑکیں بلاک کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کا این آر او نہ دینے کا اعلان عدلیہ کی توہین ہے۔احسن اقبال کی رائے

طرفین کی طرف سے دلائل سنے کے بعد چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ آزادی مارچ کے شرکاء بھی پر امن رہیں جبکہ پیمرا کو چاہئے کہ ٹی وی چینلز کو اپوزیشن اور حکومت دونوں کو یکساں وقت دینے کا پابند کرے۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ اٹک تک صوبائی حکومت کوئی بھی شاہراہ کنٹینر لگا کر بند نہ کرے جبکہ مظاہرین سے آئین اور قانون کے مطابق پیش آنے کی ہدایت کی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل وزیر اعظم کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حکومت نے جمہوری روایات کی پاسداری کی لیکن جمہوری جدوجہد کے دعویداروں کے ہاتھ میں کلاشنکوف ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں معاونِ خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ جمہوری روایات کی پاسداری کرتے ہوئے حکومت نے احتجاج کا حق دیا، لیکن مولانا فضل الرحمان کے جلوس میں آتشیں اسلحہ موجود ہے۔

مزید پڑھیں: جمہوری جدوجہد کے دعویداروں کے ہاتھ میں کلاشنکوف ہے۔فردوس عاشق اعوان