نئی حکومت نے پی ٹی آئی کے کس وزیر کی جگہ اپنا کون سا وزیر مقررکیا ہے؟

نئی حکومت نے پی ٹی آئی کے کس وزیر کی جگہ اپنا کون سا وزیر مقررکیا ہے؟

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد وزیراعظم شہبازشریف نے اپنی 34 رکنی کابینہ تشکیل دیدی ہے۔ پی ٹی آئی کے حامی سوشل میڈیا پر نئی حکومت میں شامل وزراء پر قائم مقدمات اور ان کی تعلیمی قابلیت پر سوالات اٹھارہے ہیں۔

آیئے دیکھتے ہیں کہ نئی حکومت نے پی ٹی آئی کے کس وزیر کی جگہ اپنا کون سا وزیر مقرر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

کیا حکومت کیلئے صدر عارف علوی کو عہدے سے ہٹانا ممکن ہے ؟

1۔ وزیرخارجہ
وزیراعظم کے بعد سب سے اہم عہدہ وزیر خارجہ کا سمجھا جاتا ہے، نئی حکومت نے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کو وزیرخارجہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم انہوں نے ابتدائی کابینہ میں حلف نہیں اٹھایا اس لئے جزوقتی طور پر حنا ربانی کھر کو وزیرمملکت برائے خارجہ کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے ۔ پی ٹی آئی حکومت میں شاہ محمود قریشی وزیرخارجہ کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔

2۔وزیرداخلہ
ملکی سطح پرداخلہ کی وزارت انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے اور پی ٹی آئی دور میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد وزیرداخلہ رہے جبکہ نئی حکومت نے سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کو وزیرداخلہ کا قلمدان دیا ہے۔

3۔ تخفیف غربت اور سماجی تحفظ
پی ٹی آئی حکومت نے فلاحی کاموں پر زیادہ توجہ مرکوز رکھی اور احساس کے تحت مختلف پروگرام متعارف کروائے گئے ۔سابقہ حکومت میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو فلاحی کاموں کا ذمہ داربنایا گیا جبکہ نئی حکومت نے شازیہ عطاء مری کو یہ ذمہ داری تفویض کی ہے۔

4۔وزارت صحت
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو اپنے قیام کے بعد صحت کے حوالے سے امور پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کورونا نے حکومتی پریشانیوں کو دوچند کردیا جس پر حکومت نے ڈاکٹر فیصل سلطان کو معاون خصوصی برائے صحت کی ذمہ داری دی جبکہ نئی حکومت نے قادر پٹیل کو یہ اہم وزارت سونپی ہے۔

5۔وزارت اطلاعات
حکومت کے امور اور ملکی معاملات سے متعلق اطلاعات تک رسائی کا کام وزیراطلاعات کی ذمہ داری ہوتی ہے اور سابقہ حکومت میں یہ فریضہ چوہدری فواد حسین المعروف فواد چوہدری ادا کررہے تھے جبکہ موجودہ حکومت نے یہ ذمہ داری مریم اورنگزیب کو تفویض کی ہے۔

6۔وزارت خزانہ
ملک کے معاشی امور چلانے کیلئے وزارتِ خزانہ بھی بہت اہمیت رکھتی ہے اور سابقہ حکومت نے شوکت ترین جبکہ موجودہ حکومت نے مفتاح اسماعیل کو یہ ذمہ داری سونپی ہے۔

7۔دفاعی امور
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں پرویز خٹک وزیردفاع جبکہ موجودہ حکومت میں خواجہ آصف کو وزیردفاع مقرر کیا گیا ہے۔

8۔وزارت تجارت
پی ٹی آئی حکومت میں عبدالرزاق داؤد مشیر خزانہ تھے اور نئی حکومت نے یہ ذمہ داری نوید قمر کے کندھوں پر ڈالی ہے۔

9۔ریلوے
پاکستان ریلوے کا پہیہ چلانے کی ذمہ داری پی ٹی آئی نے اعظم سواتی کو دی تھی جبکہ نئی حکومت نے خواجہ سعد رفیق کو ریلوے کا وزیرمقرر کیا ہے۔۔

10۔بحری امور
پاکستان تحریک انصاف نے علی زیدی کو بحری امورکی وزارت کا قلمدان دیا تھا جبکہ نئی حکومت میں فیصل سبزواری کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے۔

11۔انسانی حقوق
سابقہ دور حکومت میں ڈاکٹر شیریں مزاری اور موجودہ حکومت میں احسان الحق مزاری کو یہ وزارت دی گئی ہے۔

12۔ نیشنل فوڈ سیکورٹی
نیشنل فوڈ سیکورٹی کی وزارت میں سید فخر امام کی جگہ طارق بشیر چیمہ نے لے لی ہے۔

13۔ نارکوٹکس کنٹرول
شاہ زین بگٹی نے اعجاز شاہ کی جگہ نارکوٹکس کنٹرول کی وزارت کا قلمدان سنبھالا ہے۔

14۔وزارت تعلیم
رانا تنویر حسین کو شفقت محمود کی جگہ وزارت تعلیم کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

15۔وزارت مواصلات
مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اسعد محمود کو مراد سعید کی جگہ وفاقی وزیر مواصلات بنا دیا گیا ہے۔

دیگروزراء
احسن اقبال اسد عمر کی جگہ منصوبہ بندی و ترقی ،سید خورشید شاہ وفاقی وزیر آبی وسائل جبکہ سید مرتضیٰ محمود کو صنعت وپیداوار کا وفاقی وزیربنایا گیا جبکہ ساجد حسین طوری اوورسیز پاکستانیز اورانسانی وسائل کی ترقی کے وزیر ہوں گے۔

عابد حسین بھیو کووزارت نجکاری کا قلمدان دیا گیا ہے۔عبدالواسع کو ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی وزارت اور مفتی عبدالشکورکو پیر نور الحق قادری کی جگہ وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کا قلمدان سونپا گیا ہے۔اسرارترین کو دفاعی پیداوار، سینیٹر طلحہ محمود کو شہریار آفریدی کی جگہ وفاقی وزیرسیفران، امین الحق کو ان ہی کی جگہ آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کا قلمدان دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا اورعبد الرحمٰن خان کانجو وزیر مملکت اور قمر زمان کائرہ وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر اورگلگت بلتستان ہوں گے جبکہ انجینئر امیر مقام اور عون چوہدری کو مشیروں کی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں